خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 567
خطبات مسرور جلد 17 567 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 01نومبر 2019 شے ہے۔مجھے اب معلوم ہوا ہے کہ اسلام کی اخلاقی تعلیم عیسائیت جیسی ہے۔یہ تو یہ لوگ مجبوراً کہتے ہیں ورنہ بہت ساری پرائیویٹ مجلسوں میں انہوں نے یہ بھی اظہار کیا کہ عیسائیت کی تعلیم سے بہت بڑھ کر ہے۔پھر کہتے ہیں کہ خلیفہ کی باتوں سے مجھے یقین ہو گیا ہے کہ یہ غیر معمولی جماعت ہے۔پھر ایک صاحب ہیں جسٹن (Justin) جو شہر کی ڈسٹرکٹ کونسل کے پریذیڈنٹ ہیں۔کہتے ہیں کہ شروع میں جب میرے علم میں یہ بات آئی کہ یہاں مسجد بنے والی ہے تو میرے بہت سے خدشات تھے لیکن جب میں نے آپ لوگوں کا یہ نعرہ سنا کہ " محبت سب سے ، نفرت کسی سے نہیں" تو مجھے یہ خیال ہوا کہ آج کی دنیا میں کس طرح ہو سکتا ہے کہ کوئی اتنا پیار سے بھر اہو انعرہ لگائے اور اسے قبول نہ کیا جائے۔جماعت احمد یہ تو دہشت گردی اور شدت پسندی کے خلاف ایک تلوار بن سکتی ہے اور اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔فرانس میں ابھی تک لوگ جماعت احمد یہ کو اتنا تو نہیں جانتے لیکن شدت پسندی اور موجودہ مشکلات کے خلاف احمدیت کے نقطہ نظر کو ہی دیکھنا چاہیے اور ان کے ذریعے سے جانا چاہیے۔اس لیے آپ لوگوں کو بہت زیادہ کام کرنا چاہیے۔پھر لوک گینزک (Luc Ginzc) صاحب ہیں جو ایک شہر کے میئر ہیں۔کہتے ہیں میں پہلی بار مسجد میں آیا ہوں۔اگر مسجد میں آنا یہ چیز ہے جو میں نے آج دیکھی تو میں روزانہ مسجد میں آؤں گا۔مجھے مسجد میں آنا اتنا اچھا لگا اور سکون ملا ہے کہ میں اس کا بیان نہیں کر سکتا۔پھر وہاں سے 14 / اکتوبر کو جر منی گئے ہیں۔وہاں مسجد ویز بادن کا افتتاح تھا اور وہاں کا ایک مشہور ہال ہے جہاں افتتاح کی تقریب ہوئی کیونکہ مسجد کے اپنے صحن میں جگہ نہیں تھی۔اس تقریب میں جو مہمانان شامل ہوئے ان کی تعداد 370 تھی اور لارڈ میئر وغیرہ تو وہاں آئے تھے لیکن وہاں صوبائی اسمبلی کے ممبر بھی تھے اور مختلف وزارتوں کے حکومتی نمائندے بھی تھے۔مختلف حکومتی شعبوں کے ڈائریکٹر ز تھے، پولیس افسر تھے، چرچ کے پادری تھے، پروفیسر زتھے ، ڈاکٹر ، وکلا وغیرہ مختلف طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگ تھے۔کیتھولک چرچ کے ایک پادری نے کہا کہ اس تقریر میں جو آپ نے کی ہے تمام نقطہ ہائے نظر بیان کر دیے ہیں اور میں ان سے کامل اتفاق رکھتا ہوں۔دوسروں سے محبت کرنا اور خدا کے حقوق ادا کرنا یہ سب باتیں میری تعلیم میں بھی ہیں۔اسی طرح کہتے ہیں کہ آج تک میں نے اسلام کے خدا پر اتنا گہرا اور وسیع تبصرہ نہیں سنا جو خدا کی وحدانیت کے کامل دعوے کے ساتھ اسی خدائے واحد کو دنیا کے تمام مذاہب، ممالک اور انسانی معاشروں کا پالنے والا خدا قرار دیتا ہے اور اپنی خبر گیری اور خیر پہنچانے کے لیے اہل زمین میں اپنے، بے گانے اور مذہب و ملت کا امتیاز روا نہیں رکھتا۔پھر کہتے ہیں کاش دنیا کے تمام لیڈر اگر امن کے بارے میں اس طرح کی تقاریر کریں تو بڑا اچھا ہو۔پھر کہتے ہیں کہ میں جماعت احمدیہ سے اب رابطے میں رہنا چاہتا ہوں اور مسجد دیکھنے بھی ضرور آؤں گا۔انہوں نے خود یہ ایک تصور قائم کر لیا کہ اسلام کا خدا کوئی اور ہے اور عیسائیت کا خدا کوئی اور ہے اور جب ان کو صحیح حقیقت بتائی جائے تو بہر حال ماننے پر مجبور ہوتے ہیں۔پھر مائنز (Mainz) شہر سے ایک چرچ کے نمائندے شامل ہوئے۔کہتے ہیں کہ ہمسائے کے حقوق کے