خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 565 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 565

خطبات مسرور جلد 17 565 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 01نومبر 2019 تقریر بہت اچھی اور بہت گہری تھی۔بڑی تفصیل سے علم کی ضرورت اور علم کے فروغ کے لیے کیے جانے والے اقدامات کا ذکر کیا۔آپ نے علم کی تاریخ میں اسلام کی خدمات بھی گنوائی ہیں۔یہ بہت دلچسپ معلومات تھیں۔پھر سٹی کو نسل کے ایک ممبر پروگرام میں شامل تھے۔یہ کہتے ہیں کہ میں کونسل میں مختلف نسلوں کے مابین تفریق کے خلاف کام کرنے والے شعبے کا انچارج ہوں اور پھر کہتے ہیں کہ خاص کر جو تقریر ، جو باتیں میں نے آج سنیں اس میں خاص طور پر آپ نے جو خواتین کو علم کے یکساں مواقع فراہم کرنے کی بات کی ہے اور پھر بین المذاہب ہم آہنگی کی بات کی ہے یہ بہت ضروری ہے۔پھر افریقہ کے پس ماندہ علاقے میں تعلیم اور صحت کے حوالے سے شروع کیے جانے والے جماعت کے پروجیکٹس کا ذکر کیا ہے۔کہتے ہیں کہ عام طور پر جب فرانس یا دیگر ممالک میں اسلام کی بات ہوتی ہے تو مختلف خدشات کا ذکر ہوتا ہے۔معاشرے میں ایک اسلامو فوبیا ہے، ایسے میں اسلام کے بارے میں مثبت باتیں سننے کو ملی ہیں۔مجھے اس بات سے بڑی خوشی ہوئی ہے۔کہتے ہیں کہ میری خواہش تھی کہ میں یہاں آؤں اور دیکھوں کہ آپ کی جماعت کیا ہے اور کیسے کام کرتی ہے اور آپ کے بارے میں مزید علم حاصل کروں۔چنانچہ آج میری یہ خواہش پوری ہوئی۔پھر ایک اور مہمان الیگزینڈر (Alexander) صاحب ہیں کہتے ہیں کہ خلیفہ نے امن کا پیغام دیا اور یہ خطاب سچائی پر مشتمل تھا۔آپ نے بڑی کھل کر اور واضح بات کی۔مجھے لگتا ہے کہ احمد یہ جماعت نے غلامی کے مضمون کو واضح کیا ہے۔یہ پیغام بہت شان دار ہے۔مسلمانوں میں سے احمدیوں نے یہ پیغام پیش کیا ہے جو ایک چھوٹی سی جماعت ہے۔پھر ایک خاتون جر نلسٹ تھیں۔کہتی ہیں کہ تقریر سنی، بڑی اچھی تقریر تھی۔خاص طور پر یہ سن کر حیرانی ہوئی کہ کس حد تک اسلام نے دنیا میں تعلیمی ترقی کی ہوئی ہے۔اس میں مسلمانوں کا کتنا بڑا کر دار ہے اور اس کی مثالیں بھی آپ نے اپنی تقریر میں دیں اور قرآن کی بھی مثال دی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی مثالیں دیں کہ کس طرح انہوں نے ایک امن پسند معاشرے کا قیام فرمایا۔کہتی ہیں کہ آج میں نے یہاں بہت کچھ سیکھا ہے۔پھر ایک مہمان مسٹر بریز یوولی(Mr Bresioun Willy) صاحب ہیں۔ایک چیریٹی میں کام کرنے والے ہیں۔کہتے ہیں کہ بڑی اہم تقریب تھی۔بڑا عمدہ پیغام تھا۔ایک تاریخی پیغام تھا۔ایک ایسا پیغام تھا جس کو ساری دنیا کو سننا چاہیے۔اس خطاب سے میر اعلم بڑھا ہے اور مجھے امن کی اصل حقیقت اور اہمیت کا اندازہ ہوا ہے۔پھر سٹر اس برگ میں مسجد کا افتتاح تھا۔جرمنی کے بارڈر پر سٹر اس برگ فرانس کا ایک دوسرا شہر ہے وہاں تقریباً 191 مہمانوں نے شرکت کی۔ان مہمانوں میں علاقہ کی پارلیمنٹ کی ممبر تھیں۔پانچ علاقوں کے میئرز شامل ہوئے۔مختلف مذاہب کے نمائندے تھے۔مختلف ایسوسی ایشنز کے صدران تھے۔مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگ شامل تھے اور ارد گرد کے جو چھوٹے چھوٹے قصبے ہیں ان کے لوگ بھی خاص طور پر آئے ہوئے تھے کیونکہ ان لوگوں میں اسلام کے خلاف کافی تحفظات بلکہ نفرت پائی جاتی ہے اور جب آئے ہیں تو ان کے تاثر بالکل مختلف تھے۔