خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 564
خطبات مسرور جلد 17 564 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 01نومبر 2019 NATO میموریل کے پریذیڈنٹ، ممبر پارلیمنٹ، کونسلرز، میئرز اور مختلف حکومتی اداروں سے تعلق رکھنے والے افراد اور ڈائریکٹر ز وغیرہ شامل تھے۔مالی سے یونیسکو کے ایمبیسیڈر عمر کائنا صاحب نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امام جماعت امن پھیلا رہے ہیں۔میں آپ کے امن کے پیغام کی وجہ سے مبارک باد پیش کرتا ہوں۔یونیسکو ایک ایسی آئیڈیل جگہ ہے جہاں امن کی بات ہو سکتی ہے اور پھر انہوں نے اپنے باقی جذبات کا بھی اظہار کیا کہ کس طرح اس تقریر سے، خطاب سے ہمیں بہت ساری باتیں پتا لگیں اور پھر کہتے ہیں کہ یہی وہ چیز ہے جس کی امتِ مسلمہ کو بھی ضرورت ہے۔مالی کے رہنے والے خود مسلمان نہیں ہیں۔کہتے ہیں یہی وہ چیز ہے جس کی امتِ مسلمہ کو بھی ضرورت ہے۔عالمی انصاف اور ہم آہنگی کا جو تصور امام جماعت نے پیش کیا ہے دنیا کو اس کی اشد ضرورت ہے۔پھر نیٹو میموریل کے صدر مسٹر برینٹن (Mr Brenton) نے کہا کہ اس میں شامل ہو کر اپنی خوشی کا اظہار کیا۔اس بات کا اظہار کیا کہ وہ شامل ہوئے۔پھر کہتے ہیں کہ یہ کانفرنس اہم اور تاریخی تھی اس سے امن ، رواداری اور اخوت قائم ہو سکتی ہے۔میری خواہش ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگ جماعت احمدیہ کے امام کے پیغام کو سنیں اور پھر کہتے ہیں کہ یہ حقیقی اسلام کی بات کرتے ہیں جو پُر امن اور برداشت کی تعلیم دینے والا ہے۔یہ پیغام شدت پسندوں کے عمل سے بالکل مختلف ہے۔امام جماعت اس امن کے پیغام کو فروغ دینے کے لیے بہت کو شش کر رہے ہیں۔پھر کہتے ہیں کہ یہ ایک ضروری کام ہے امن کے کام کو فروغ دینا اور ہم بھی ان کی مدد کرنے کے لیے تیار ہیں۔اور پھر کہتے ہیں کہ ہم میں سے ہر ایک کو امن قائم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔یہ کام ہر سطح پر کرنا چاہیے اور اس کے لیے اپنا عملی نمونہ پیش کرنا چاہیے۔پھر فرانس میں مالی سے تعلق رکھنے والے کیتھولک افراد کی ایسوسی ایشن کے صدر دیالو (Diallo) صاحب بھی اس پروگرام میں شامل تھے۔کہتے ہیں کہ میں پہلے سے احمدیوں کے بارے میں جانتا تھا۔تمام مذاہب کو یہ پیغام دوسروں تک پہنچانا چاہیے جو آج ہمیں ملا اور یہ تقریر سن کر مجھے لگا کہ یہ اتنا پیارا پیغام ہے اور اس کو سننے کے بعد میرے دل میں اس کی اتنی خواہش پیدا ہوئی کہ میں اسلام کی ترقی کے لیے خود دعا کروں۔یہ کیتھولک ہیں۔پھر کہتے ہیں کہ اگر دنیا میں وہ اسلام قائم ہو جو امام جماعت احمدیہ پیش کر رہے ہیں تو دنیا کے سب مسائل ختم ہو جائیں گے۔جب دوسروں کے جذبات کا احترام ہو گا تو ہر جگہ امن قائم ہو گا۔باہمی احترام کی بڑی ضرورت ہے۔ہم میں سے ہر ایک اپنے اپنے دین پر قائم ہے لیکن ہمارا ایک مشترکہ عقیدہ ہے اور وہ اللہ کی ذات ہے۔پھر ایک مہمان بر نرڈ (Bernard) صاحب کہتے ہیں کہ ہم ٹی وی پر اسلام کے بارے میں جو پروپیگینڈا سنتے تھے آج اس سے بالکل مختلف اسلام کی تعلیم پیش کی گئی ہے اور یہی حقیقی اسلام ہے۔کہتے ہیں کہ میں نے آج آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں علم حاصل کیا ہے کہ کس طرح مدینے میں بہت اعلیٰ معاشرہ قائم کیا۔مجھے آج پہلی دفعہ پتا چلا ہے کہ اسلام نے علم کے میدان میں کتنا بڑا حصہ لیا اور دنیا کو علم دیا ہے۔پھر فرانس کی ایک انسانی حقوق کی فیڈریشن کے ممبر ہیں جو اس پروگرام میں شامل تھے۔کہتے ہیں کہ یہ