خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 563
خطبات مسرور جلد 17 563 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 01نومبر 2019 بات تو یہ ہے کہ زمانے کے امام مسیح موعود اور مہدی معہود سے مجڑ کر ہی اسلام کی حقیقی تعلیم کا پتا لگتا ہے اور جب تک ان مسلمانوں کو اس بات کا ادراک نہیں ہو گا کہ انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت میں آنا ہے تب تک صحیح اسلام کا، حقیقی اسلام کا پتالگ بھی نہیں سکتا۔بہر حال یہ کہتے ہیں کہ خلیفہ نے آج واضح کر دیا ہے کہ جہاد اصل میں کیا ہے اور کس طرح اس کی غلط تشریحات کی جارہی ہیں۔خلیفہ نے اسلام کی ابتدائی دور کے واقعات اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جو واقعات پیش کیے ہیں ان سے ثابت ہو تا ہے کہ اسلام ایک امن پسند مذہب ہے۔میں نے اپنی زندگی میں پہلی دفعہ اس طرح حکمت کے ساتھ اسلام کا پیغام سنا ہے۔پھر مراکش سے تعلق رکھنے والے ایک غیر احمدی مہمان سفیان صاحب کہتے ہیں کہ مجھے آج کے خطاب سے اس بات کا اندازہ ہوا کہ آپ لوگ ہی حقیقی اور اصل مسلمان ہیں اور جو لوگ کہتے ہیں کہ آپ مسلمان نہیں ہیں وہ بالکل غلط کہتے ہیں۔مولویوں نے جو مجھے بچپن سے احمدیوں کے بارے میں سکھایا تھا وہ سب جھوٹ تھا لیکن فرانس میں اسلام سے اور مسلمانوں سے لوگ ڈرتے ہیں۔ہمیں پتا نہیں تھا کہ ہم کس طرح اس کا دفاع کریں۔کس طرح لوگوں کاڈر اور خوف دور کریں۔آج کہتے ہیں کہ آپ کے خلیفہ نے بہت اچھے طریقے سے اسلام کا دفاع کیا ہے اور یہ بھی جیسا کہ میں نے کہا کہ حقیقی اسلامی تعلیم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت میں آنے سے ہی پتا لگتی ہے۔ایک عیسائی مہمان تھے جیکب (Jacob) صاحب۔کہتے ہیں ایسے پروگراموں کی دنیا میں بہت ضرورت ہے۔آپ کے خلیفہ مختلف اقوام اور مذاہب میں جو آپس کے فاصلے ہیں ان کو کم کر رہے ہیں۔انہوں نے ہمیں یہ سمجھایا ہے کہ جو دہشت گر دہیں ان کے سیاسی مقاصد ہیں۔مذہب ایک اچھی چیز ہے۔مذہب سے ڈرنا نہیں چاہیے۔خلیفہ نے بار بار آزادی کی بات کی۔یہ فرانس کے لوگوں کے لیے ایک نئی بات ہے۔فرانس کے لوگوں میں اسلام کے بارے میں بالکل اور سوچ ہے۔پھر ایک مہمان میکسین آن فرے (Maxine Onfray) جو تھنک ٹینک میں کام کرتے ہیں، کہنے لگے کہ آج میری زندگی کا ایک بہت پیارا دن ہے جس میں آپ کے خلیفہ کو بر او راست میں نے سنا اور انہوں نے بالکل صحیح کہا ہے کہ اس وقت ہم ایک ایسے اندھیرے دور سے گزر رہے ہیں جس میں نفرت پائی جاتی ہے لیکن ساتھ ہمیں یہ بھی سمجھا دیا کہ یہ سب کچھ مذہب کی وجہ سے نہیں ہے اور لوگوں کو اسلام سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔خلیفہ نے جو یہ کہا ہے کہ مذہب کو شدت پسند لوگوں نے ہائی جیک کر لیا ہے اور اسے اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔یہ بالکل درست ہے۔میں اس سے متفق ہوں۔اور پھر کہتے ہیں کہ انہوں نے اسلامی تعلیم کی رو سے ہمیں سمجھایا کہ ہم آئندہ اپنی نسلوں کے لیے کس طرح دنیا کو اچھا چھوڑ کے جاسکتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس خطاب کو شائع ہو نا چاہیے اور ہم سب کو ملنا چاہیے۔یہ تھنک ٹینک کے ایک ممبر ہیں ان کا تبصرہ ہے۔پھر 18 اکتوبر کو یونیسکو(UNESCO) میں جیسا کہ میں نے ذکر کیا وہاں تقریب تھی۔اس تقریب میں 1 9 مہمان شریک ہوئے جن میں یونیسکو میں مالی کے ایمبیسیڈر، فرانس کی وزارت خارجہ اور داخلہ کے حکام، مذہبی امور کے مشیر، فرانس کی مذہبی امور کی جو وزارت ہے اس کی مشیر، مذاہب کے شعبہ کے ڈائریکٹر،