خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 551 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 551

خطبات مسرور جلد 17 551 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 25 اکتوبر 2019 یہ تقاضا کرتا ہے کہ کوشش کر کے پھر نماز کو کھڑا کریں۔پھر اپنی توجہ دوبارہ نماز کی طرف لے کر آئیں اور خد اتعالیٰ کی طرف لے کر آئیں تو یہ اسے کھڑا کرنا ہے۔فرمایا کہ وہ تکلف اور کوشش سے بار بار اسے کھڑ ا کرتا ہے اور اگر مستقل مزاجی سے نماز پر انسان قائم رہے اور اس بات کی کوشش کرتا رہے کہ میں نے اپنی نماز کے اعلیٰ معیار حاصل کرنے ہیں تو پھر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے کلام کے ذریعہ ہدایت عطا کر دیتا ہے۔پھر آپ نے ہدایت کی وضاحت فرمائی کہ ہدایت کیا ہوتی ہے؟ فرمایا کہ وہ ایسی حالت ہوتی ہے کہ جب نماز کے کھڑی کرنے، اس کو قائم کرنے کی کوشش کا معاملہ نہیں رہتا۔یہ نہیں ہو تا کہ نماز گر گئی۔نماز سے توجہ ہٹ گئی اور پھر دوبارہ نماز کی طرف توجہ پیدا ہوئی۔یہ معاملہ نہیں رہتا بلکہ ہدایت حاصل کرنے کے بعد نماز اس کے لیے بمنزلہ غذا ہو جاتی ہے۔اس طرح ہو جاتی ہے جس طرح خوراک ہے۔کھانا کھانا انسان کے جسم کے لیے ضروری ہے۔اسی طرح روحانی نشو و نما کے لیے نماز اس کا حصہ بن جاتی ہے ، غذا بن جاتی ہے۔فرمایا جس طرح مادی غذا کے بغیر زندگی نہیں رہتی، یہ وضاحت میں اس کی کر رہا ہوں کہ جس طرح مادی غذا کے بغیر زندگی نہیں رہتی اسی طرح نماز کے بغیر بھی زندگی نہیں رہتی اور صرف یہی نہیں کہ صرف زندگی قائم رکھنے کے لیے غذا کھانی ہے بلکہ فرمایا کہ یہ غذا ایسی ہے کہ اس کا مزہ بھی آتا ہے۔آپ نے فرمایا کہ نماز میں اس کو وہ لذت اور ذوق عطا کیا جاتا ہے جیسے سخت پیاس کے وقت ٹھنڈ اپانی پینے سے حاصل ہوتا ہے کیونکہ وہ نہایت رغبت سے اسے پیتا ہے اور سیر ہو کر اس سے حظ اٹھاتا ہے۔پیاس لگی ہو، شدید پیاس ہو، براحال ہو، پانی نہ مل رہا ہو ، پھر پانی مل جائے اور ٹھنڈا پانی مل جائے تو اس سے جو لطف آتا ہے وہ اسی طرح ہے جس طرح ایک حقیقی ہدایت یافتہ کو نماز پڑھنے سے آتا ہے یا پھر ایک اور مثال آپ نے دی کہ کوئی بھو کا ہو اور اسے نہایت اعلیٰ قسم کا خوش ذائقہ کھانا مل جائے تو اسے کھا کر خوشی ملتی ہے۔ایسے ہی حقیقت میں خوشی حقیقی نماز پڑھنے والے کو ملتی ہے۔پس یہ وہ نمازیں ہیں جو حقیقت میں نمازیں ہیں کہ خوش ہو کر نماز پڑھنی ہے نہ کہ بوجھ سمجھ کر نمازیں پڑھنی ہیں بلکہ آپ نے یہ مثال بھی دی ہے کہ حقیقی مومن کے لیے نماز ایک قسم کا نشہ ہو جاتی ہے جس کے بغیر وہ سخت کرب محسوس کرتا ہے۔جس طرح کہ نشئی آدمی جو ہوتا ہے اس کو نشہ نہ ملے تو بڑی تکلیف محسوس کرتا ہے۔بڑا اضطراب اور بے چینی محسوس کرتا ہے لیکن نماز کے ادا کرنے سے اس کے دل میں ایک خاص سرور اور ٹھنڈک محسوس ہوتی ہے۔آپ نے فرمایا کہ الفاظ میں وہ لذت بیان نہیں ہو سکتی جو حقیقی نماز پڑھنے والے کو لذت ملتی ہے۔آپ نے فرمایا کہ مومن متقی نماز میں لذت پاتا ہے اس لیے نماز کو خوب سنوار سنوار کر پڑھنا چاہیے۔فرمایا نماز ساری ترقیوں کی جڑ اور زینہ ہے۔اسی لیے کہا گیا ہے کہ نماز مومن کا معراج ہے اور اس کے ذریعہ خدا تعالیٰ تک پہنچا جا سکتا ہے۔(ماخوذ از ملفوظات جلد 8 صفحہ 309-310) پس اگر ہماری مسجدیں بنیں تو ایسی نمازیں ادا کرنے کے لیے مسجدیں بنیں۔ہم مسجدیں بنانے کی طرف توجہ دیں تو اس معراج کو حاصل کرنے کے لیے۔یہ ہماری معراج ہونی چاہیے۔یہی وہ ذریعہ ہے جو خد اتعالیٰ تک لے جاتا ہے اور خد اتعالیٰ سے باتیں کرنے کا موقع ملتا ہے۔پس مایوس نہیں ہونا چاہیے کہ یہ مقام کس طرح ملے۔مسلسل