خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 552 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 552

خطبات مسرور جلد 17 552 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 25 اکتوبر 2019 کوشش سے یہ مقام اللہ تعالیٰ دیتا ہے۔بہت سے لوگ اب بھی سوال کرتے ہیں، مجھے بھی لکھتے ہیں کہ نماز میں توجہ قائم نہیں رہتی تو یہی اس کا علاج ہے کہ کوشش کر کے بار بار توجہ قائم رکھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی مجلس میں بھی کسی دوست نے یہ سوال کیا کہ میر ادل آج کل ایسا ہو رہا ہے کہ نماز میں لذت اور رقت پیدا نہیں ہوتی اور میں اس وجہ سے نہایت سخت تکلیف میں رہتا ہوں کیونکہ ایک دفعہ نماز کی لذت کا مزہ چکھ چکا ہوں۔خواہ مخواہ شبہات پیدا ہوتے رہتے ہیں۔اگر چہ ان کو بہت رڈ کرتا ہوں تا ہم وساوس پیچھا نہیں چھوڑتے۔کیا کروں ؟ فرمایا کہ یہ بھی خد اتعالیٰ کا فضل اور احسان ہے کہ انسان ایسے وساوس کا مغلوب نہیں ہو تا۔وساوس پید اہو رہے ہیں، آپ کو احساس پید اہو گیا ہے۔ان کو غالب نہیں ہونے دیا۔فرمایا کہ جب ایسی حالت ہو کہ انسان ان وسوسوں کو غالب نہ آنے دے اپنے اوپر تو یہ بھی ثواب کی حالت ہے۔اللہ تعالیٰ اس کا بھی ثواب دیتا ہے، ایسار حیم و کریم خدا ہے۔فرمایا کہ نفس انارہ والے کو تو خبر ہی نہیں ہوتی کہ بدی کیا شے ہے۔وہ تو بدیاں کرتا چلا جاتا ہے اس کو تو کچھ نہیں پتا لگتا۔نفس لوامہ ہے جو بدی کرتا ہے پر بدی پر ہمیشہ گھبراتا ہے اور شرمندہ ہوتا ہے۔پس یہ نفس لوامہ کی حالت جو ہے اس میں جب بدی پر شر مندہ ہو، گھبر ائے، احساس پیدا ہو، خیال پیدا ہو تو اس کو جھٹکے۔اس کا بھی اللہ تعالیٰ ثواب دے دیتا ہے اور شر مندہ ہو تا ہے اور توبہ کرتارہتا ہے۔ایسا شخص نفس کا غلام نہیں ہے۔فرمایا کہ پریشانی کی کوئی بات نہیں ہے۔اگر خیالات اور وسوسے آتے ہیں اور پھر ان کو دور کرنے کی کوشش کرتے ہو تو تمہیں ثواب مل جاتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کا بھی ثواب دے دیتا ہے۔ایسا شخص نفس کا غلام نہیں ہے اور اس حالت میں ہونا ایک حد تک ضروری بھی ہے۔اس سے دل برداشتہ نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اس میں بڑے بڑے ثواب ہیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ خود بخود نور اور سکینت نازل کرتا ہے۔خدا کی رحمت کا وقت آتا ہے اور ایک ٹھنڈ پڑ جاتی ہے اور وہ بات ہوا ہو جاتی ہے۔انسان کو چاہیے کہ تھک نہ جاوے۔سجدے میں يَاحَهُ يَا قَيُّومُ بِرَحْمَتِكَ اَسْتَغِيْثُ بہت پڑھا کرو۔فرمایا سجدے میں يَا حَيُّ يَاقَيُّوْمُ بِرَحْمَتِكَ اَسْتَغِيْثُ بہت پڑھا کرو۔لیکن یاد رکھو کہ جلد بازی خوف ناک ہے۔جلد بازی نہیں دکھانی۔اسلام میں انسان کو بہادر بنتا ہے۔جو جلد بازی دکھاتا ہے وہ بہادر نہیں ہے ، وہ بزدل ہے۔برسوں کی محنت اور مشقت کے بعد آخر شیطان کے حملے کمزور ہو جاتے ہیں اور وہ بھاگ جاتا ہے۔(ماخوذ از ملفوظات جلد 7 صفحہ 347) پس یہ اصولی بات ہمیشہ یاد رکھنے والی ہے کہ جلد بازی نہیں کرنی اور مستقل اللہ تعالیٰ کو پکڑے رکھنا ہے۔اس کے آگے جھکے رہنا ہے۔آخر ایک دن شیطان ہار مان کر بھاگ جائے گا لیکن اگر جلد بازی دکھائی، نماز کو قائم کرنے کی بھر پور کوشش نہ کی تو پھر انسان شیطان کے پنجے میں آجاتا ہے۔عموماً دیکھنے میں یہی آیا ہے کہ انسان جلد باز ہے۔فوری نتائج نہ ملیں تو کہتا ہے کہ دعائیں کرنے کا کچھ فائدہ نہیں ہوا۔یہ بات یادر کھنی چاہیے کہ انسان اگر صرف دنیا ہی دنیا مانگتا ر ہے تو صرف ایسی دعائیں پھر اللہ تعالیٰ قبول نہیں کرتا۔ہاں اللہ تعالیٰ سے اپنی روحانی اور دینی ترقی مانگی جائے، اللہ تعالیٰ کا قرب مانگا جائے تو اللہ تعالیٰ پھر قریب آتا ہے اور پھر اس شخص کی دنیاوی ضروریات بھی