خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 550 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 550

خطبات مسرور جلد 17 550 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 اکتوبر 2019 سے مسجدیں بنانے کی توفیق پا رہی ہے اور یقیناً احباب جماعت مساجد کی تعمیر کے لیے اس لیے مالی قربانی کر رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے حکموں پر عمل کرتے ہوئے ہم نے اپنی عبادتوں کے معیار بلند کرنے ہیں۔پاکستان سے ہجرت کر کے آنے کے بعد یہاں آکر ہمارے مالی حالات بہتر ہوئے ہیں۔یہ بات ہم میں سے ہر ایک کو اس طرف توجہ دلانے والی ہونی چاہیے کہ ہم خدا تعالی کی راہ میں خرچ کریں اور اس کا گھر تعمیر کریں جہاں ہم جمع ہو کر نماز کا قیام کر سکیں۔باجماعت نمازیں ادا کر سکیں۔اپنی نمازوں میں ایسی حالت پیدا کر سکیں جس سے اللہ تعالیٰ کی طرف خالص توجہ پیدا ہو۔آزادی سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حق ادا کر سکیں۔پاکستان میں ہمیں مذہبی آزادی نہیں ہے۔وہاں ملکی قانون ہمیں مسجدیں بنانے کی اجازت نہیں دیتا۔ہمیں آزادی سے عبادت کرنے کی اجازت نہیں دیتا کہ ہم وہاں اللہ تعالیٰ کا حق ادا کر سکیں ، اس کی عبادت کر سکیں۔یہاں اللہ تعالیٰ کے حق کی ادائیگی کے لیے ہم مسجد میں بنا رہے ہیں۔ہم پر اللہ تعالیٰ نے مالی لحاظ سے بھی فضل فرمایا ہے۔اس لیے ہر ایک کو یہ سوچنا چاہیے کہ ہم اس کے بندوں کے حقوق ادا کرنے کی بھی کوشش کریں گے اور کر رہے ہیں۔ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت کی ہے تاکہ اپنی روحانی اور اخلاقی حالتوں کو بہتر کریں تو ہماری یہ مسجدیں ہمیں اس بات کی طرف توجہ دلانے والی ہیں اور ہونی چاہئیں۔پس یہ سوچ ہے اور اس پر بھر پور عمل کی کوشش ہے جو ہر ایک احمدی کو یہاں رہتے ہوئے اپنے دماغوں میں بھی رکھنی چاہیے ، دلوں میں رکھنی چاہیے اور اپنے عمل سے ثابت کرنی چاہیے ورنہ مسجد میں بنانا بے فائدہ ہے۔پس ہر احمدی کو یاد رکھنا چاہیے کہ ان کا مقصد مسجدیں بنانے سے پورا نہیں ہو گا بلکہ اس وقت پورا ہو گا جب وہ خالص ہو کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف توجہ دیں گے اور اپنی نمازوں کو قائم کریں گے۔باجماعت نمازوں کے لیے مسجد میں آئیں گے۔اپنی توجہ نمازوں میں اللہ تعالیٰ کی طرف رکھیں گے ، اسے قائم کریں گے۔اگر توجہ ادھر اُدھر ہوتی ہے تو فوراً واپس توجہ نماز کی طرف اور خدا تعالیٰ کی طرف پھیریں گے۔اس بات کی حقیقت کو سمجھیں گے کہ نماز میں ہمیں اللہ تعالیٰ سے باتیں کرنے کا موقع مل رہا ہے۔صرف ٹھونگے نہیں مارنے، صرف سجدے نہیں کرنے، صرف عربی الفاظ نہیں ادا کرنے بلکہ اپنی زبان میں بھی باتیں کرنی ہیں۔ایسی نمازوں کی کوشش ہونی چاہیے جس میں اللہ تعالیٰ کا لقا حاصل ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام متقی کی صفات بیان کرتے ہوئے، حقیقی مومن کی صفات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ وہ يُقِيمُونَ الصَّلوة کرنے والے ہیں۔وہ نماز کو کھڑی کرتے ہیں۔متقی سے جیسا ہو سکتا ہے وہ نماز کھڑی کرتا ہے یعنی کبھی نماز گر پڑتی ہے پھر اسے کھڑا کرتا ہے۔فرمایا یعنی متقی خدا تعالیٰ سے ڈرا کرتا ہے اور وہ نماز کو قائم کرتا ہے۔اس حالت میں مختلف قسم کے وساوس اور خطرات بھی ہوتے ہیں جو پیدا ہو کر اس کے حضور میں حارج ہوتے ہیں۔دلوں کے وسوسے، خیالات اللہ تعالیٰ کی طرف سے توجہ پھیرتے ہیں۔یہ دلوں کے وسوسے اور خیالات جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے توجہ پھیرتے ہیں یہی نماز کا گرنا ہے اور واپس اس کو کھڑی کرنا یہی ہے کہ پھر دوبارہ توجہ اللہ تعالیٰ کی طرف کی جائے لیکن اگر دل میں تقوی ہے۔تو فرمایا ایک متقی، ایک حقیقی مومن نفس کی اس کشاکش میں بھی نماز کو کھڑا کرتا ہے یعنی نماز تو گرتی ہے، بعض دفعہ توجہ ادھر اُدھر چلی جاتی ہے لیکن تقوی