خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 547 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 547

خطبات مسرور جلد 17 547 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 18 اکتوبر 2019 کروں گا۔اس وقت اب میں ایک مرحوم کا ذکر بھی کرنا چاہتا ہوں جن کا نمازوں کے بعد میں جنازہ بھی پڑھاؤں گا۔وہ ہیں مکرم خواجہ رشید الدین قمر صاحب جو مولانا قمر الدین صاحب مرحوم کے بیٹے تھے۔10/ اکتوبر کو کچھ علالت کے بعد 86 سال کی عمر میں بقضائے الہی وفات پاگئے۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَجِعُوْنَ۔آپ قادیان میں 1933ء میں پیدا ہوئے تھے اور جیسا کہ میں نے کہا مولوی قمر الدین صاحب کے بیٹے تھے۔مولوی قمر الدین صاحب کو حضرت مصلح موعودؓ نے مجلس خدام الاحمدیہ کا پہلا صدر مقرر فرمایا تھا۔مرحوم حضرت میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پوتے اور ہمارے محترم امیر صاحب یو کے جو ہیں ان کے ماموں تھے۔حضرت میاں خیر دین سیکھوائی اور آپ کے دو بھائیوں کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے انجام آتھم میں لکھا ہے کہ میں اپنی جماعت کے محبت اور اخلاص پر تعجب کرتاہوں کہ ان میں سے نہایت ہی کم معاش والے جیسے میاں جمال الدین اور خیر الدین اور امام الدین کشمیری میرے گاؤں سے قریب رہنے والے ہیں۔وہ تینوں غریب بھائی بھی جو شاید تین آنے یا چار آنے روزانہ مزدوری کرتے ہیں لیکن سرگرمی سے ماہ وار چندہ میں شریک ہیں۔(ماخوذ از ضمیمه رساله انجام آتھم ، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 313) پھر ایک موقعے پر جب آپ نے چندے کی تحریک کی تو ان تینوں بھائیوں نے چندے دیے۔ان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ان صاحبوں کے چندے کا معاملہ نہایت عجیب اور قابل رشک ہے کہ وہ دنیا کے مال سے نہایت ہی کم حصہ رکھتے ہیں گویا حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرح جو کچھ گھر وں میں تھا وہ سب لے آئے ہیں اور دین کو دنیا پر مقدم کیا جیسا کہ بیعت میں شرط تھی۔(ماخوذ از مجموعہ اشتہارات جلد 3 صفحہ 167) تو خواجہ صاحب ان کی نسل میں سے تھے۔مرحوم نے پاکستان ہجرت کے بعد کچھ عرصہ پاکستان ایئر فورس میں کام کیا۔1958ء میں یو کے آگئے اور یہاں 33 سال تک برٹش ایئرویز میں ملازم رہے۔آپ کو چونکہ خدمت سلسلہ کا بھی شوق تھا اس لیے آپ نے ملازمت کے دوران اپنی ڈیوٹی بھی رات کے وقت رکھی تاکہ دن کے وقت خدمت دین کر سکیں۔تقریباً ساری عمر سلسلہ کی خدمت میں گزاری۔جماعت کے مختلف عہدوں پر فائز رہے۔یوکے میں پہلے قائد مجلس خدام الاحمدیہ کے طور پر سات سال تک خدمت کرنے کی توفیق ملی۔اس وقت باہر کی خدام الاحمدیہ بھی خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے تحت اکٹھی ہوتی تھی تو یو کے کے پہلے قائد یہ تھے۔اس کے ساتھ آپ کو نیشنل جنرل سیکر ٹری اور پھر سیکرٹری مال پھر سیکرٹری رشتہ ناطہ، سیکرٹری امور عامه ، نائب افسر جلسہ گاہ خدمت بجالانے کی توفیق ملی۔خواجہ صاحب بے شمار خوبیوں کے مالک تھے۔خلافت سے بڑا عشق تھا۔بزرگانِ دین، مربیانِ کرام اور جماعتی عہدیداران کا بہت احترام کرتے تھے۔انتہائی نیک آدمی تھے، تہجد گزار تھے۔نماز باجماعت کے پابند ، چندہ جات اور صدقہ و خیرات کی ادائیگی میں باقاعدہ نہایت ملنسار، غریب پرور، بچوں سے انتہائی شفقت سے پیش آنے والے، بڑوں اور چھوٹوں کا احترام کرنے والے بڑے دعا گو بزرگ تھے۔مرحوم خدا تعالیٰ کے فضل سے موصی تھے۔ان