خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 546 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 546

خطبات مسرور جلد 17 546 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 اکتوبر 2019 میں ساتھ آگئے تھے وہ واپس کیے گئے چنانچہ عبد اللہ بن عمر، اسامہ بن زید، ابوسعید خدری وغیرہ سب واپس کیے گئے۔رافع بن خدیج انہیں بچوں کے ہم عمر تھے مگر تیر اندازی میں اچھی مہارت رکھتے تھے۔ان کی اس خوبی کی وجہ سے ان کے والد نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ان کی سفارش کی کہ ان کو شریک جہاد ہونے کی اجازت دی جائے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے رافع کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا تو وہ سپاہیوں کی طرح خوب تن کر کھڑے ہو گئے تاکہ چست اور لمبے نظر آئیں چنانچہ ان کا یہ داؤ چل گیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بھی ساتھ چلنے کی اجازت دے دی۔اس پر ایک اور بچہ سمرہ بن جندب جسے واپسی کا حکم مل چکا تھا اپنے باپ کے پاس گیا اور کہا کہ اگر رافع کو لیا گیا ہے تو مجھے بھی اجازت ملنی چاہیے کیونکہ میں رافع سے مضبوط ہوں اور کشتی میں اسے گر الیتا ہوں۔باپ کو بیٹے کے اس اخلاص پر بڑی خوشی ہوئی۔اسے ساتھ لے کر وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنے بیٹے کی خواہش بیان کی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسکراتے ہوئے فرمایا اچھا یہ بات ہے تو پھر رافع اور سمرہ کی کشتی کروا دیتے ہیں تاکہ معلوم ہو جائے کہ کون زیادہ مضبو ط ہے۔چنانچہ مقابلہ ہوا اور واقعہ میں سمرہ نے تھوڑی دیر میں ہی رافع کو اٹھا کر دے مارا، پچھاڑ دیا جس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سمرہ کو بھی ساتھ چلنے کی اجازت مرحمت فرمائی اور اس معصوم بچے کا دل خوش ہو گیا۔اب چونکہ شام ہو چکی تھی اس لیے بلال نے اذان کہی اور صحابہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں نماز ادا کی۔پھر رات کے واسطے مسلمانوں نے یہیں ڈیرے ڈال دیے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے پہرے کے لیے محمد بن مسلمہ کو منتظم مقرر فرمایا جنہوں نے پچاس صحابہ کی جماعت کے ساتھ رات بھر لشکر اسلامی کے ارد گرد چکر لگاتے ہوئے پہرہ دیا۔دوسرے دن یعنی 15 / شوال 3 ہجری جو 31 / مارچ 624 عیسوی بنتی ہے ہفتے کے دن سحری کے وقت یہ اسلامی لشکر آگے بڑھا اور راستے میں نماز ادا کرتے ہوئے صبح ہوتے ہی احد کے دامن میں پہنچ گیا۔اس موقعے پر عبد اللہ بن ابی بن سلول رئیس المنافقین نے غداری کی اور اپنے تین سو ساتھیوں کے ساتھ مسلمانوں کے لشکر سے ہٹ کر یہ کہتا ہوا مدینے کی طرف واپس لوٹ گیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے میری بات نہیں مانی اور ناتجربہ کار نوجوانوں کے کہنے میں آکر باہر نکل آئے ہیں اس لیے میں ان کے ساتھ ہو کر نہیں لڑ سکتا۔بعض لوگوں نے بطور خود اُسے سمجھایا کہ یہ غداری ٹھیک نہیں ہے مگر اس نے ایک نہیں سنی اور یہی کہتا گیا کہ یہ کوئی لڑائی ہوتی ہے۔اگر لڑائی ہوتی تو میں شامل ہو تا مگر یہ لڑائی نہیں ہے بلکہ خود کو ہلاکت کے منہ میں ڈالنا ہے۔اب مسلمانوں کی طاقت صرف سات سو لوگوں پر مشتمل تھی جو کفار کے تین ہزار سپاہیوں کے مقابلے میں چوتھائی حصے سے بھی کم تھی۔(ماخوذ از سیرت خاتم النبین صفحہ 484 تا487)(معجم البلدان جلد 3 صفحه 168 زير لفظ "شيخان") بہر حال جنگ ہوئی۔اس کے حوالے سے کچھ اور بھی حالات ہیں باقی ان شاء اللہ آئندہ خطبے میں بیان