خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 545 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 545

خطبات مسرور جلد 17 545 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 18 اکتوبر 2019 معلوم ہوتا ہے کہ ہم مدینے کے اندر رہ کر مقابلہ کریں لیکن اکثر صحابہ نے اور خصوصاً ان نوجوانوں نے جو بدر کی جنگ میں شامل نہیں ہوئے تھے اور اپنی شہادت سے خدمت دین کا موقع حاصل کرنا چاہتے تھے اور بڑے بے تاب ہورہے تھے اس کے لیے بڑے اصرار کے ساتھ عرض کیا کہ شہر سے باہر نکل کر کھلے میدان میں مقابلہ کرنا چاہیے۔ان لوگوں نے اس قدر اصرار کیا اور اپنی رائے کو پیش کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے جوش کو دیکھ کر ان کی بات مان لی اور فیصلہ فرمایا کہ ہم کھلے میدان میں نکل کر کفار کا مقابلہ کریں گے اور پھر جمعہ کی نماز کے بعد آپ نے مسلمانوں میں عام تحریک فرمائی کہ وہ جہاد فی سبیل اللہ کی غرض سے اس غزوے میں شامل ہو کر ثواب حاصل کریں۔اس کے بعد آپ اندرون خانہ تشریف لے گئے ، گھر چلے گئے جہاں حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ کی مدد سے آپ نے عمامہ باندھا اور جنگی لباس پہنا اور پھر ہتھیار لگا کر اللہ تعالیٰ کا نام لیتے ہوئے باہر تشریف لے آئے لیکن اتنے عرصے میں حضرت سعد بن معاذ رئیس قبیلہ اوس اور دوسرے اکابر صحابہ کے سمجھانے سے نوجوان لو گوں کو اپنی غلطی محسوس ہونے لگی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رائے کے مقابلے میں اپنی رائے پر اصرار نہیں کرنا چاہیے اور اکثر ان میں سے پشیمانی کی طرف مائل تھے۔جب ان لوگوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ہتھیار لگائے اور دہری زرہ اور خود وغیرہ پہنے ہوئے دیکھا کہ آپ تشریف لائے ہیں تو ان کو اور بھی زیادہ ندامت ہو گئی اور زیادہ پریشان ہو گئے۔اور انہوں نے قریباً ایک زبان ہو کر عرض کیا کہ یارسول اللہ ہم سے غلطی ہو گئی کہ ہم نے آپ کی رائے کے مقابلے میں اپنی رائے پر اصرار کیا۔آپ جس طرح مناسب خیال فرماتے ہیں اسی طرح کارروائی فرمائیں۔ان شاء اللہ اسی میں برکت ہو گی۔آپ نے بڑے جوش سے فرمایا کہ خدا کے نبی کی شان سے بعید ہے کہ وہ ہتھیار لگا کر پھر اسے اتار دے قبل اس کے کہ خدا کوئی فیصلہ کرے۔اب یہ تو نہیں ہو سکتا۔یہ خدا کے نبی کی شان نہیں ہے کہ ہتھیار لگائے اور پھر انہیں اتار دے سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہو۔پس اب اللہ کا نام لے کر چلو اور اگر تم نے صبر سے کام لیا تو یقین رکھو کہ اللہ تعالیٰ کی نصرت تمہارے ساتھ ہو گی۔اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے لشکر اسلامی کے لیے تین جھنڈے تیار کروائے۔قبیلہ اوس کا جھنڈ ا اُسید بن حضیر کے سپرد کیا گیا اور قبیلہ خزرج کا جھنڈ ا حباب بن منذر کے ہاتھ میں دیا گیا اور مہاجرین کا جھنڈا حضرت علی کو دیا گیا اور پھر مدینے میں عبد اللہ بن ام مکتوم کو امام الصلوۃ مقرر کر کے آپ صحابہ کی بڑی جماعت کے ہم راہ نمازِ عصر کے بعد مدینے سے نکلے۔قبیلہ اوس اور خزرج کے رؤساء سعد بن معاذ اور سعد بن عبادہ آپ کی سواری کے سامنے آہستہ آہستہ دوڑتے جاتے تھے اور باقی صحابہ آپ کے دائیں اور بائیں اور پیچھے چل رہے تھے۔احد کا پہاڑ مدینے کے شمال کی طرف قریباً تین میل کے فاصلے پر واقع ہے۔اس کے نصف میں پہنچ کر ، آدھا سفر طے کر کے اس مقام پر جسے شیخین کہتے ہیں، یہ مدینے کے قریب ایک مقام کا نام ہے وہاں آپ نے قیام فرمایا اور لشکر اسلام کا جائزہ لیے جانے کا حکم دیا۔کم عمر بچے جو جہاد کے شوق