خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 544 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 544

خطبات مسرور جلد 17 544 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 18 اکتوبر 2019 کو نازل فرمائے انہیں معاف کرو اور ان سے در گزر کرو اور اللہ یقیناً ہر ایک امر پر پورا پورا قادر ہے۔اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عفو کو ہی مناسب سمجھتے تھے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا تھا۔آخر اللہ تعالیٰ نے ان کو اجازت دے دی جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے مقام پر اُن کا مقابلہ کیا اور اللہ تعالیٰ نے اس لڑائی میں کفار قریش کے بڑے بڑے سر گرم مار ڈالے تو عبد اللہ بن اُبی بن سلول اور جو اس کے ساتھ مشرک اور بت پرست تھے کہنے لگے اب تو یہ سلسلہ شاندار ہو گیا ہے۔انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسلام پر قائم رہنے کی بیعت کر لی اور مسلمان ہو گئے۔(صحیح بخاری کتاب التفسیر باب و لتسمعن من الذين۔۔۔۔۔۔حدیث نمبر 4566) اسلام بھی ان کا اسی طرح تھا کہ جب دیکھا کہ جنگ بدر میں کامیاب ہو گئے ہیں تو خوف پیدا ہوا اور اسلام لے آئے۔تو بہر حال یہ روایتیں جیسا کہ میں نے کہا ان کا براہ راست تعلق نہیں بھی ہے تو بیان کرتا ہوں تاکہ اس حوالے سے تاریخ کا بھی پتا لگتا چلا جائے۔پھر اس عبد اللہ بن ابی بن سلول کے کردار کی تفصیل حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے بیان کی ہے۔غزوہ احد کے موقعے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو جمع کر کے ان سے قریش کے اس حملے کے متعلق مشورہ مانگا کہ آیا مدینے میں ہی ٹھہر اجاوے یا باہر نکل کر مقابلہ کیا جاوے۔اس مشورے پر عبد اللہ بن اُبی بن سلول بھی شریک تھا جو دراصل تو منافق تھا مگر بدر کے بعد بظاہر مسلمان ہو چکا تھا اور یہ پہلا موقع تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مشورے میں شرکت کی دعوت دی۔مشورے سے قبل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کے حملے اور ان کے خونی ارادوں کا ذکر فرمایا اور فرمایا کہ آج رات کو میں نے خواب میں ایک گائے دیکھی ہے نیز میں نے دیکھا کہ میری تلوار کا سر ٹوٹ گیا ہے اور پھر میں نے دیکھا کہ وہ گائے ذبح کی جارہی ہے اور میں نے دیکھا کہ میں نے اپنا ہاتھ ایک مضبوط زرہ کے اندر ڈالا ہے۔اور ایک روایت میں یہ بھی مذکور ہے کہ آپ نے فرمایا کہ میں نے دیکھا ہے کہ ایک مینڈھا ہے جس کی پیٹھ پر میں سوار ہوں۔صحابہ نے دریافت کیا یار سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے اس خواب کی کیا تعبیر فرمائی ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ گائے کے ذبح ہونے سے تو میں یہ سمجھتا ہوں کہ میرے صحابہ میں سے بعض کا شہید ہونا مراد ہے اور میری تلوار کے کنارے کے ٹوٹنے سے میرے عزیزوں میں سے کسی کی شہادت کی طرف اشارہ معلوم ہو تا ہے یا شاید خود مجھے اس مہم میں کوئی تکلیف پہنچے اور زرہ کے اندر ہاتھ ڈالنے سے میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس حملے کے مقابلے کے لیے ہمارامد پینے کے اندر ٹھہر نازیادہ مناسب ہے اور مینڈھے پر سوار ہونے والے خواب کی آپ نے یہ تاویل فرمائی کہ اس سے کفار کے لشکر کا سر دار یعنی علم بردار مراد ہے، جھنڈا اٹھانے والا جو ان شاء اللہ مسلمانوں کے ہاتھ سے مارا جائے گا۔اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے مشورہ طلب فرمایا کہ موجودہ صورت میں کیا کرنا چاہیے۔بعض بڑے صحابہ نے حالات کے اونچ نیچ کی وجہ سے اور سوچ کر اور شاید کسی قدر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خواب سے متاثر ہو کر یہ رائے دی کہ مدینے میں ہی ٹھہر کر مقابلہ کرنا مناسب ہے۔یہی رائے عبد اللہ بن اُبی بن سلول جور نیس المنافقین تھا اس نے بھی دی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسی رائے کو پسند فرمایا اور کہا کہ بہتر یہی