خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 543
خطبات مسرور جلد 17 543 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 18 اکتوبر 2019 اپنی چادر سے اپنی ناک ڈھانکی اور کہنے لگا غالباً حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے یہ کہا کہ ہم پر گرد نہ اڑاؤ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سلام کہنے کے بعد ٹھہرے اور جانور سے اترے۔آپ نے انہیں اللہ کی طرف بلایا اور انہیں قرآن پڑھ کر سنایا۔عبد اللہ بن ابی بن سلول نے کہا اے شخص !جو بات تم کہتے ہو اس سے اچھی کوئی اور بات نہیں۔ٹھیک ہے تم کہتے ہو یا یہ مطلب تھا کہ تمہارے نزدیک اس سے اچھی کوئی اور بات نہیں یا کوئی اور اچھی بات نہیں تم کہہ سکتے ؟ کئی مطلب اس کے ہو سکتے ہیں۔بہر حال ترجمہ کرنے میں کس طرح کیا گیا ہے یہ تو اصل حوالے سے پتالگ سکتا ہے۔بہر حال اس نے یہ کہا اگر یہ سچ ہے کہ تمہاری اس بات سے کوئی اچھی بات نہیں تو ہماری مجلس میں آکر اس سے تکلیف نہ دیا کرو، اپنے ٹھکانے پر ہی واپس جاؤ اور پھر جو تمہارے پاس آئے اس سے بیان کیا کرو۔حضرت عبد اللہ بن رواحہ نے یہ سن کر کہا کہ نہیں یارسول اللہ ! ہماری ان مجلسوں ہی میں آپ آکر ہمیں پڑھ کر سنایا کریں۔ہمیں تو یہ بات پسند ہے۔اس پر مسلمان اور مشرک اور یہودی ایک دوسرے کو برا بھلا کہنے لگے۔قریب تھا کہ وہ ایک دوسرے پر حملہ کرتے مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا جوش دبایا، دباتے رہے اور سمجھاتے رہے۔آخر وہ رک گئے۔پھر اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے جانور پر سوار ہو کر چلے گئے یہاں تک کہ حضرت سعد بن عبادہ کے پاس آئے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا کہ اے سعد ! کیا تم نے نہیں سناجو ابو حباب نے آج مجھے کہا ہے ؟ آپ کی مراد عبد اللہ بن ابی سے تھی۔آپ نے فرمایا اس نے مجھے یوں یوں کہا ہے، ساری بات بتائی۔حضرت سعد بن عبادہ نے کہا یا رسول اللہ ! آپ اس کو معاف کر دیں اور اس سے در گزر کیجیے۔اس ذات کی قسم ہے جس نے آپ پر کتاب نازل فرمائی ہے اللہ تعالیٰ اب وہ حق یہاں لے آیا ہے جس کو اس نے آپ پر نازل کیا ہے۔اس بستی والوں نے تو یہ فیصلہ کیا تھا کہ اس یعنی عبداللہ بن ابی کو سرداری کا تاج پہنا کر عمامہ اس کے سر پر باندھیں۔جب اللہ تعالیٰ نے اس حق کی وجہ سے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کیا ہے یہ منظور نہ کیا تو وہ حسد کی آگ میں جل گیا۔اس لیے اس نے وہ کچھ کہا جو آپ نے دیکھا۔یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے در گزر کیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ مشرکوں اور اہل کتاب سے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا در گزر کیا کرتے تھے اور ان کی ایذا دہی پر ، تکلیفوں پر صبر کیا کرتے تھے۔اللہ عز وجل نے فرمایا ہے کہ وَلَتَسْمَعُنَ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَمِنَ الَّذِينَ أَشْرَكُوا أَذًى كَثِيرًا۔(آل عمران: 187) اور تم ضرور ان لوگوں سے جنہیں تم سے پہلے کتاب دی گئی اور ان سے جنہوں نے شرک کیا بہت تکلیف دہ باتیں سنو گے اور اللہ تعالیٰ نے پھر فرمایا کہ وَذَكَثِيرٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَبِ لَوْ يَرُدُّونَكُمْ مِنْ بَعْدِ إِيْمَانِكُمْ كُفَّارًا حَسَدًا مِّنْ عِنْدِ أَنْفُسِهِمْ - (البقرة: 110) اہل کتاب میں سے بہت سے ایسے ہیں جو چاہتے ہیں کہ کاش تمہیں تمہارے ایمان لانے کے بعد ایک دفعہ پھر کفار بنادیں بوجہ اس حسد کے جو ان کے اپنے دلوں سے پیدا ہوتا ہے۔پس تم اس وقت تک کہ اللہ اپنے حکم