خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 40 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 40

خطبات مسرور جلد 17 40 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 جنوری 2019 کی وجہ ہی یہ بیان کرتا تھا کہ جب میں نے عامر بن فُهَيْرَةٌ کو شہید کیا تو ان کے منہ سے بے ساختہ نکلا فُزْتُ واللہ۔یعنی خدا کی قسم ! میں تو اپنی مراد کو پہنچ گیا ہوں۔یہ واقعات بتاتے ہیں کہ صحابہ کیلئے موت بجائے رنج کے خوشی کا موجب ہوتی تھی۔" (ایک آیت کی پر معارف تفسیر ، انوار العلوم جلد 18 صفحہ 612-613) پس بڑے خوش قسمت تھے وہ لوگ اور خاص طور پر عامر بن فهيرة جن کو حضرت ابو بکر کی خدمت کا بھی موقع ملا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کا موقع ملا اور آپ کے ساتھ ہجرت کا بھی موقع ملا اور پھر یہ کہ غار ثور میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانا وغیرہ خوراک مہیا کرنے یا اس زمانے میں خوراک تو بکری کا وہ دودھ تھا، دودھ پہنچانے کے لئے ان کو مقرر کیا گیا اور یہ با قاعدگی سے تین دن وہاں بکری لے جاتے رہے اور بکری کا دودھ وہاں پہنچاتے رہے۔پھر ان کو یہ بھی موقع ملا کہ سُراقہ کو امن کی تحریر انہوں نے لکھ کر دی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد پر تھی۔اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی شہادت کی خبر بھی ان کی دعا سے دور بیٹھے ہوئے ملی۔تو یہ وفا کے پتلے تھے جنہوں نے ہر موقع پر وفاد کھائی۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند سے بلند تر کر تا چلا جائے۔الفضل انٹر نیشنل مورخہ 08 فروری 2019ء تا 14 فروری 2019ء جلد 26 شمارہ 06 صفحه 05 تا08)