خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 39
خطبات مسرور جلد 17 39 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 جنوری 2019 رب کی قسم ! میں کامیاب ہو گیا۔کیا یہ شخص پاگل تو نہیں ؟ چنانچہ میں نے بعض اور لوگوں سے پوچھا یہ کیا بات ہے اور اس کے منہ سے ایسا فقرہ کیوں نکلا؟ انہوں نے کہا کہ تم نہیں جانتے یہ مسلمان لوگ واقعہ میں پاگل ہیں۔جب یہ خدا تعالیٰ کی راہ میں مرتے ہیں تو سمجھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ ان سے راضی ہو گیا اور انہوں نے کامیابی حاصل کر لی۔یہ کہتے ہیں کہ میری طبیعت پر اس کا اتنا اثر ہوا کہ میں نے فیصلہ کر لیا کہ میں ان لوگوں کا مرکز جا کر دیکھوں گا اور خود ان لوگوں کے مذہب کا مطالعہ کروں گا۔چنانچہ میں مدینہ پہنچا اور مسلمان ہو گیا۔صحابہ کہتے ہیں کہ اس واقعہ کا کہ ایک شخص کے سینہ میں نیزہ مارا جاتا ہے اور وہ وطن سے کوسوں دور ہے۔اس کا کوئی عزیز اور رشتہ دار اس کے پاس نہیں اور اس کی زبان سے یہ نکلتا ہے کہ فُزْتُ وَرَبِّ الكَعْبَةِ۔جب یہ شخص اس حملے کے بعد مسلمان ہوا تھا تو اس کی طبیعت پر اتنا اثر تھا کہ جب وہ یہ واقعہ سنایا کرتا اور فُزْتُ وَرَبِّ الكَعْبَةِ کے الفاظ پر پہنچتا تو اس واقعہ کی ہیبت کی وجہ سے یکدم اس کا جسم کانپنے لگ جاتا اور آنکھوں سے آنسو رواں ہو جاتے تو حضرت مصلح موعودؓ لکھتے ہیں کہ اسلام اپنی خوبیوں کی وجہ سے پھیلا ہے زور سے نہیں۔(ماخوذ از سیر روحانی، انوار العلوم جلد 22 صفحہ 251-250) یہ بھی کہا جاتا ہے کہ حضرت عامر بن فهيرة کی شہادت کے وقت آپ کے منہ سے جو الفاظ نکلے ان میں فُزْتُ وَرَبِّ الكَعْبَةِ اور فُزْتُ وَاللهِ دونوں الفاظ ملتے ہیں۔دونوں روایتیں ہیں اور یہ الفاظ اور صحابہ کے منہ سے بھی نکلے تھے۔حضرت مصلح موعودؓ نے اس کا بھی ذکر کیا ہے اور کرتے ہوئے آپؐ فرماتے ہیں کہ " ہمیں تاریخ پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ جنگوں میں اس طرح جاتے تھے کہ ان کو یوں معلوم ہو تا تھا کہ جنگ میں شہید ہونا ان کے لئے عین راحت اور خوشی کا موجب ہے۔اور اگر ان کو لڑائی میں کوئی دکھ پہنچتا تھا تو وہ اس کو دکھ نہیں سمجھتے تھے بلکہ سکھ خیال کرتے تھے۔چنانچہ صحابہ کے کثرت کے ساتھ اس قسم کے واقعات تاریخوں میں ملتے ہیں کہ انہوں نے خدا کی راہ میں مارے جانے کو ہی اپنے لئے عین راحت محسوس کیا۔مثلاًوہ حفاظ جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وسط عرب کے ایک قبیلہ کی طرف تبلیغ کے لئے بھیجے تھے ان میں سے حرام بن ملحان اسلام کا پیغام لے کر قبیلہ عامر کے رئیس عامر بن طفیل کے پاس گئے اور باقی صحابہ پیچھے رہے۔شروع میں تو عامر بن طفیل اور اس کے ساتھیوں نے منافقانہ طور پر ان کی آؤ بھگت کی لیکن جب وہ مطمئن ہو کر بیٹھ گئے اور تبلیغ کرنے لگے تو ان میں سے بعض شریروں نے ایک خبیث کو اشارہ کیا اور اس نے اشارہ پاتے ہی حرام بن ملحان پر پیچھے سے نیزہ کا وار کیا اور وہ گر گئے۔گرتے وقت ان کی زبان سے بے ساختہ نکلا کہ اللهُ أَكْبَرُ - فُزْتُ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ - یعنی مجھے کعبہ کے رب کی قسم !میں نجات پاگیا۔پھر ان شریروں نے باقی صحابہ کا محاصرہ کیا اور ان پر حملہ آور ہو گئے۔اس موقع پر حضرت ابو بکر کے آزاد کردہ غلام عامر بن فهيرة جو ہجرت کے سفر میں رسول کریم صلی علیکم کے ساتھ تھے ان کے متعلق ذکر آتا ہے بلکہ خود ان کا قاتل جو بعد میں مسلمان ہو گیا تھا وہ اپنے مسلمان ہونے