خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 540 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 540

خطبات مسرور جلد 17 540 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 18 اکتوبر 2019 کی راہ میں مارا جا رہا ہوں تو جس پہلو میں بھی گروں کوئی فرق نہیں پڑتا کہ دائیں گرتا ہوں، بائیں گرتا ہوں، آگے گرتا ہوں، پیچھے گرتا ہوں۔میں تو خد اتعالیٰ کی خاطر جان دے رہا ہوں۔(اسد الغابة في معرفة الصحابة جلد 1 صفحه 683 ، خبيب بن عدى دار الكتب العلميه بيروت 2003ء) ایک آرزو تھی جس کا انہوں نے قتل کیے جانے سے پہلے اظہار کیا اور وہ بھی یہ کہ اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ کر لوں، دو نفل پڑھ لوں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام پہنچانے کی آرزو تھی، خواہش تھی تو وہ بھی اللہ تعالیٰ نے پوری کر دی وہ بھی پہنچادیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق کا یہ حال تھا کہ یہ بھی گوارہ نہیں ہوا کہ آپ کے پاؤں میں کانٹا بھی چبھ جائے اور اس کے بدلے میں میری زندگی بچے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی ہلکی سی تکلیف کی بھی اہمیت تھی اور اپنی جان کی کوئی پروا نہیں تھی۔تب ہی تو یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے تھے۔حضرت عبد اللہ بن عبد اللہ بن اُبی بن سلول اگلے صحابی ہیں جن کا ذکر ہو گا۔حضرت عبد اللہ کا تعلق انصار کے قبیلہ خزرج کی شاخ بنو عوف سے تھا۔یہ رئیس المنافقین عبد اللہ بن اُبی بن سلول کے بیٹے تھے اور نہایت ہی مخلص اور جاں نثار اور فدائی صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔حضرت عبد اللہ کی والدہ کا نام خولہ بنت منذر تھا۔(السيرة النبوية لابن هشام صفحه 468 "الانصار و من معهم "دار الكتب العلمية بيروت لبنان 2001ء)(الطبقات الكبرى لابن سعد الجزء ثالث صفحه 1408 د الله۔"عبد بن عبد الله " دار الكتب العلمية بيروت لبنان 1990ء) حضرت عبد اللہ کا نام جاہلیت کے زمانے میں محباب تھا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کا نام بدل کر عبد اللہ رکھ دیا اور فرمایا حباب شیطان کا نام ہے۔سلول عبد اللہ بن ابی رئیس المنافقین کی دادی کا نام تھا جس کا قبیلہ خزاعہ سے تعلق تھا۔اُبی اپنی ماں کی نسبت سے مشہور تھا۔اس لیے عبد اللہ بن ابی بن سلول کہلا تا تھا۔عبد اللہ بن ابی بن سلول ابو عامر راہب کی خالہ کا بیٹا تھا۔ابو عامر ان لوگوں میں سے تھا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا لوگوں میں ذکر کیا کرتا تھا کہ ایک نبی مبعوث ہونے والا ہے اور اس نبی پر ایمان لانے کا اظہار کرتا تھا اور آپ کے ظہور کا لوگوں سے وعدہ کیا کرتا تھا کہ ظہور ہونے والا ہے۔ابو عامر نے جاہلیت میں ٹاٹ پہن لیا تھا، بڑے موٹے کپڑے پہنتا تھا اور رہبانیت اختیار کر لی تھی۔جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کر دیا تو پھر بجائے اس کے کہ جو تلقین کیا کرتا تھا اس کے الٹ ہو گیا اور حسد میں مبتلا ہو گیا، حسد کرنے لگا اور اس نے بغاوت کی اور اپنے کفر پر قائم رہا۔مشرکین کے ساتھ بدر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ کے لیے نکلا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نام فاسق رکھا۔(الطبقات الكبرى لا بن سعد الجزء ثالث صفحه 408 409 " عبد الله بن عبد الله" دار الكتب العلمية بيروت لبنان1990ء) حضرت عبد اللہ کی اولاد میں عباده ، جلیحہ، خیثمہ اور خولی اور امامہ کا ذکر ملتا ہے۔حضرت عبد اللہ اسلام لائے اور ان کا اسلام بہت اچھا تھا۔یہ جلیل القدر صحابہ میں شامل تھے۔حضرت عبد اللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ غزوہ بدر، احد اور دیگر تمام غزوات میں شامل ہوئے۔حضرت عبد اللہ لکھنا پڑھنا بھی جانتے تھے۔حضرت عائشہ