خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 539
خطبات مسرور جلد 17 539 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 18 اکتوبر 2019 سارے لوگ وہاں پہنچے اور اس روایت کے مطابق کوئی بھی مکے میں نہ رہا۔جو انتقام چاہتے تھے ، جو اپنے بڑوں کے قتل کا بدلہ لینا چاہتے تھے جو جنگ میں مارے گئے تھے وہ تو اپنی آنکھیں ٹھنڈی کرنے کے لیے اور جنہوں نے انتقام نہیں لینا تھا اور جو اسلام اور مسلمانوں کے مخالف تھے وہ مخالفت کا اظہار کرنے اور خوش ہونے کے لیے وہاں گئے تھے کہ دیکھیں کس طرح اس کو قتل کیا جاتا ہے۔پھر جب حضرت خبیب کو مع زید بن دشتہ کے تنعیم لے کر پہنچ گئے تو مشرکین کے حکم سے ایک لمبی لکڑی کھو دی گئی۔پھر جب وہ لوگ خبیب کو اس لکڑی کے پاس لے کر پہنچے ، وہاں کھڑی کی گئی تو خبیب بولے کیا مجھے دور کعت پڑھنے کی مہلت مل سکتی ہے ؟ لوگ بولے کہ ہاں۔حضرت خبیب نے دو نفل اختصار کے ساتھ ادا کیے اور انہیں لمبانہ کیا۔یہ ان خاتون کی روایت ہے۔(الطبقات الكبرى لابن سعد جزء8 صفحه 399’ماوية مولاة حجير، دار احياء التراث العربي بيروت 1996ء) (صحيح البخارى كتاب الجهاد باب هل يساسر الرجل؟۔۔۔۔حدیث 3045)(اسدالغابه جلد اول صفحه 683 حاشيه مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2003ء) ابن سعد کے حوالے سے جو روایت ابھی بیان ہوئی ہے اس کے مطابق ماویہ جو تھیں حجیر بن ابو اھاب کی آزاد کر دہ لونڈی تھیں جن کے گھر میں حضرت خبیب قید کیے گئے تھے۔علامہ ابن عبد البر کے مطابق حضرت خبیب عقبہ کے گھر میں قید تھے اور عقبہ کی بیوی انہیں خوراک مہیا کرتی تھیں اور کھانے کے وقت وہ حضرت خبیب کو کھول دیا کرتی تھی۔(الاستيعاب في معرفة الاصحاب جزء2 صفحه 25 ، خبيب بن عدى دار الكتب العلمية بيروت 2002ء) علامہ ابن اثیر جزری لکھتے ہیں کہ حضرت خبیب پہلے صحابی تھے جو اللہ تعالیٰ کی خاطر صلیب دیے گئے۔(اسد الغابة في معرفة الصحابة جلد 1 صفحه 683 ، خبيب بن عدى، دار الكتب العلميه بيروت 2003ء) یعنی پہلے لکڑی کھڑی کی گئی، زمین پر گاڑی گئی اس پر ان کو باندھ کے پھر شہید کیا گیا۔اس قتل کے واقعے کے بارے میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ لکھتے ہیں کہ " اس تماشہ کو دیکھنے والوں میں ابوسفیان رئیس مکہ بھی تھا۔وہ زید کی طرف متوجہ ہوا اور پوچھا کہ کیا تم پسند نہیں کرتے کہ محمد تمہاری جگہ پر ہو اور تم اپنے گھر میں آرام سے بیٹھے ہو ؟" (صلی اللہ علیہ وسلم)۔"زیڈ نے بڑے غصہ سے جواب دیا کہ ابوسفیان ! تم کیا کہتے ہو ؟ خدا کی قسم ! میرے لئے مرنا اس سے بہتر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں کو مدینہ کی گلیوں میں ایک کانٹا بھی چبھ جائے۔اس فدائیت سے ابو سفیان متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔" یہ جو جواب تھا ایسا تھا کہ ابو سفیان اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا اور اُس نے حیرت سے زید کی طرف دیکھا اور فوراہی " پھر " دبی زبان میں کہا کہ خدا گواہ ہے کہ جس طرح محمد کے ساتھ محمد کے ساتھی محبت کرتے ہیں میں نے نہیں دیکھا کہ کوئی اور شخص کسی سے محبت کرتا ہو۔" به تفسیر القرآن ، انوار العلوم جلد 20 صفحہ 262 تا263) یہ تھا صحابہ کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق و وفا کا تعلق اور جان قربان کر دینے کا معیار بھی۔پھر اللہ تعالیٰ کا سلوک بھی ان سے کیا تھاوہ بھی ظاہر ہو گیا۔ان کا اپنا معیار کیا تھا۔جب یہ انہوں نے کہا کہ جب میں خدا تعالیٰ (دیباچه