خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 541 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 541

541 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 18 اکتوبر 2019 خطبات مسرور جلد 17 نے حضرت عبد اللہ سے احادیث روایت کی ہیں۔حضرت عبد اللہ کو کاتب وحی ہونے کا بھی شرف حاصل تھا۔(الطبقات الكبرى لابن سعد الجزء الثالث صفحه 409 " عبد الله بن عبد الله" دار الكتب العلمية بيروت لبنان 1990ء) (سیر الصحابه از سعید انصاری جلد 3 صفحہ 425 دار الاشاعت اردو بازار کر اچی 2004ء) ایک روایت میں آتا ہے کہ غزوہ احد میں حضرت عبد اللہ کا ناک کٹ گیا جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سونے کا ناک لگوانے کا ارشاد فرمایا جبکہ ایک دوسری روایت میں آتا ہے کہ غزوہ احد کے موقعے پر حضرت عبد اللہ کے دو دانت ٹوٹ گئے تھے جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سونے کے دانت لگوانے کا ارشاد فرمایا تھا۔راوی کہتے ہیں کہ دانت والی روایت زیادہ مشہور ہے اور درست ہے۔(اسد الغابة في معرفة الصحابة جزء ثالث صفحه 298" عبدالله بن عبدالله بن ابی"دار الكتب العلمية بيروت لبنان 2008ء) اور یہی درست لگتی ہے۔بعض دفعہ بعض بیان کرنے والے مبالغہ کر لیتے ہیں یا بعض دفعہ صحیح پیغام آگے نہیں سمجھ سکتے تو ناک کی بات تو نہیں دانتوں کی بات ہی صحیح لگتی ہے کہ دانت ٹوٹ گئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سونے کے دانت لگو الو اور وہی لگوایا کرتے تھے، اس زمانے میں بھی کراؤن (crown) چڑھایا کرتے تھے۔غزوہ احد میں ابوسفیان نے مسلمانوں کو چیلنج دیا تھا کہ اگلے سال ہم دوبارہ بدر کے میدان میں ملیں گے۔اس واقعے کا ذکر کرتے ہوئے سیرت خاتم النبیین میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے مختلف تواریخ سے لے کے جو نتیجہ نکالا ہے وہ ہے کہ غزوہ احد کے بعد میدان سے لوٹتے ہوئے ابوسفیان نے مسلمانوں کو یہ چیلنج دیا تھا کہ آئندہ سال بدر کے مقام پر ہماری تمہاری جنگ ہو گی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس چیلنج کو قبول کرنے کا اعلان فرمایا تھا۔اس لیے دوسرے سال یعنی 4 ہجری میں جب شوال کے مہینے کا آخر آیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ڈیڑھ ہزار صحابہ کی جمعیت کو ساتھ لے کر مدینے سے نکلے اور آپ نے اپنے پیچھے عبد اللہ بن عبد اللہ بن ابی بن سلول کو امیر مقرر فرمایا۔حضرت عبد اللہ کو مدینے کا امیر مقرر فرمایا جب آپ لشکر لے کر نکلے۔دوسری طرف ابوسفیان بن حرب بھی دو ہزار قریش کے لشکر کے ساتھ مکے سے نکلا مگر باوجود احد کی فتح اور اتنی بڑی جمعیت کے ساتھ ہونے کے اس کا دل خائف تھا اور اسلام کی تباہی کے درپے ہونے کے باوجو د وہ چاہتا تھا لہ جب تک بہت زیادہ جمعیت کا انتظام نہ ہو جائے وہ مسلمانوں کے سامنے نہ ہو۔چنانچہ ابھی وہ مکہ میں ہی تھا کہ اس نے نعیم نامی ایک شخص کو جو ایک غیر جانب دار قبیلے سے تعلق رکھتا تھا مدینہ کی طرف روانہ کر دیا اور اسے تاکید کی کہ جس طرح بھی ہو مسلمانوں کو ڈرا دھمکا کر اور جھوٹ سچ باتیں بنا کر جنگ سے نکلنے سے باز رکھو۔چنانچہ یہ شخص مدینہ میں آیا اور قریش کی تیاری اور طاقت اور ان کے جوش و خروش کے جھوٹے قصے سنا کر اس نے مدینہ میں ایک بے چینی کی حالت پیدا کر دی حتی کہ بعض کمزور طبیعت لوگ اس غزوے میں شامل ہونے سے خائف ہونے لگے لیکن جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نکلنے کی تحریک فرمائی اور آپ نے اپنی تقریر میں فرمایا کہ ہم نے کفار کے چیلنج کو قبول کر کے اس موقع پر نکلنے کا وعدہ کیا ہے اس لیے ہم اس سے تخلف نہیں کر سکتے،