خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 538 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 538

خطبات مسرور جلد 17 538 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 اکتوبر 2019 ثابت ہوئیں۔ماویہ بعد میں یہ قصہ بیان کرتی تھیں کہ اللہ تعالیٰ کی قسم میں نے حضرت خبیب سے بہتر کسی کو نہیں دیکھا۔میں انہیں دروازے کے درز سے دیکھا کرتی تھی اور وہ زنجیر میں بندھے ہوتے تھے اور میرے علم میں روئے زمین پر کھانے کے لیے انگوروں کا ایک دانہ بھی نہ تھا، اس علاقے میں کوئی انگور نہیں تھا لیکن حضرت خبیب کے ہاتھ میں آدمی کے سر کے برابر انگوروں کا گچھا ہو تا تھا یعنی کافی بڑا اچھا ہو تا تھا جس میں سے وہ کھاتے۔وہ اللہ کے رزق کے سوا اور کچھ نہ تھا۔حضرت خبیب تہجد میں قرآن پڑھتے اور عورتیں وہ سن کر رو دیتیں اور انہیں حضرت خبیب پر رحم آتا۔وہ بتاتی ہیں کہ ایک دن میں نے حضرت خبیب سے پوچھا اے خبیب! کیا تمہاری کوئی ضرورت ہے تو انہوں نے جواب دیا نہیں۔ہاں ایک بات ہے کہ مجھے ٹھنڈا پانی پلا دو اور مجھے بتوں کے نام پر ذبح کیے جانے والے سے گوشت نہ دینا۔جو کھانا تم لوگ دیتے ہو کبھی وہ کھانا نہ دینا جو بتوں کے نام پر ذبح کیا گیا ہو اور تیسری بات یہ کہ جب لوگ میرے قتل کا ارادہ کریں تو مجھے بتا دینا۔پھر جب حرمت والے مہینے گزر گئے اور لوگوں نے حضرت خبیب کے قتل پر اتفاق کر لیا تو کہتی ہیں کہ میں نے ان کے پاس جا کر انہیں یہ خبر دی۔کہتی ہیں کہ اللہ کی قسم ! انہوں نے اپنے قتل کیے جانے کی کوئی پروا نہیں کی۔انہوں نے مجھ سے کہا میرے پاس استر ا بھیج دو تا کہ میں اپنے آپ کو درست کر لوں۔وہ بتاتی ہیں کہ میں نے اپنے بیٹے ابو حسین کے ہاتھ استر ابھیجا۔یہ بیٹا جو ہے کہتی ہیں وہ حقیقی بیٹا نہ تھا بلکہ ماویہ نے اس کی صرف پرورش کی تھی، یہی لکھا گیا ہے۔جب بچہ چلا گیا تو پھر کہتی ہیں میرے دل میں خیال پیدا ہوا کہ اللہ کی قسم ! خبیب نے اپنا انتقام پا لیا۔اب میرا بیٹا اس کے پاس ہے، استرا اس کے ہاتھ میں ہے اور وہ تو انتقام لے لے گا۔یہ میں نے کیا کر دیا ! میں نے اس بچے کے ہاتھ استرا بھیج دیا ہے۔خبیب اس بچے کو استرے سے قتل کر دے گا اور پھر کہے گا کہ مرد کے بدلے مرد۔روایت تو یہ آتی ہے کہ بچہ کھیلتا ہوا ان کے پاس چلا گیا ان کے ہاتھ میں استر اتھا لیکن ایک روایت یہ اس طرح ہے جو تفصیل سے ہے کہ بچہ ہوش و حواس میں تھا اور اس قابل تھا کہ اس کے ہاتھ کوئی چیز بھجوائی جاسکے اور وہ انہوں نے بھجوایا۔تو وہ کہتی ہیں کہ جائے گا تو کہہ دے گا کہ ٹھیک ہے تم میرا قتل کر رہے ہو تو میں بھی یہ قتل کر دیتا ہوں۔پھر جب میرا بیٹا ان کے پاس استرالے کر پہنچا تو انہوں نے وہ لیتے ہوئے مزاحاً اس بچے کو کہا کہ تو بڑا بہادر ہے۔کیا تمہاری ماں کو میری غداری کا خوف نہیں آیا اور تمہارے ہاتھ میرے پاس استر ا بھجوا دیا جبکہ تم لوگ میرے قتل کا اردہ بھی کر چکے ہو۔حضرت ماویہ بیان کرتی ہیں کہ حبیب کی یہ باتیں میں سن رہی تھی۔میں نے کہا اے حبیب! میں اللہ کی امان کی وجہ سے تم سے بے خوف رہی اور میں نے تمہارے معبود پر بھروسا کر کے اس بچے کے ہاتھ تمہارے پاس استرا بھجوایا۔میں نے وہ اس لیے نہیں بھجوایا کہ تم اس سے میرے بیٹے کو قتل کر ڈالو۔حضرت خبیب نے کہا کہ میں ایسا نہیں ہوں کہ اس کو قتل کروں۔ہم اپنے دین میں غداری جائز نہیں سمجھتے۔وہ بتاتی ہیں کہ پھر میں نے خبیب کو خبر دی کہ لوگ کل صبح تمہیں یہاں سے نکال کر قتل کرنے والے ہیں۔پھر یہ ہوا کہ اگلے دن لوگ انہیں زنجیر میں جکڑے ہوئے تنعیم ، مکے سے مدینے کی طرف تین میل کے فاصلے پر ایک مقام ہے وہاں لے گئے اور خبیب کے قتل کا تماشا دیکھنے کے لیے بچے، عور تیں، غلام اور ملے کے بہت