خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 537 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 537

خطبات مسرور جلد 17 537 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 18 اکتوبر 2019 کے فاصلے پر واقع ہے۔میں نے ایک غار میں پناہ لی۔وہاں سے نکلا یہاں تک کہ مقام عزج پر پہنچا جو مدینے سے 78 میل کے فاصلے پر واقع ہے۔پھر چلتا گیا، کہتے ہیں کہ جب میں مقام نقیع پر اتراجو مدینے سے تقریباً ساٹھ میل کے فاصلے پر ہے تو مشرکین نے قریش کے دو آدمی دیکھے جنہیں قریش نے مدینہ میں جاسوسی کے لیے بھیجا تھا۔میں نے انہیں کہا کہ ہتھیار ڈال دو۔پتا تو لگ گیا ہے کہ تم جاسوسی کرنے آئے ہو لیکن وہ نہ مانے۔اس پر وہاں لڑائی شروع ہو گئی ، کہتے ہیں ایک کو تو میں نے تیر مارا اور اس کو ہلاک کر دیا اور دوسرے کو قیدی بنالیا اور پھر اسے باندھ کر مدینہ لے آیا۔(السيرة النبوية لابن هشام صفحه 885-886 باب بعث عمرو بن اميه الضمرى لقتال ابی سفیان۔۔۔۔۔۔دار الكتب العلمية بيروت 2001ء) (الاصابة في تمييز الصحابه جزء2 صفحه 226 ، خبیب بن عدی۔دار الكتب العلميه بيروت 1995ء) (لغات الحدیث جلد 4 صفحه 603 کتاب ”ی“۔جلد 3 صفحه 46 کتاب ف‘)(معجم البلدان جلد 3 صفحه 225 ، 309۔جلد 4 صفحه 400) ایک دوسری روایت کے مطابق حضرت عمرو بن امیہ ضمری بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں تنہا جاسوس کے طور پر بھیجا تا کہ حضرت خبیب کو لکڑی سے اتاروں۔وہ کہتے ہیں کہ رات کے وقت میں حضرت خبیب کی لکڑی کے پاس پہنچ کر اس کے اوپر چڑھ گیا تو اس وقت خوف تھا کہ کوئی مجھے دیکھ نہ لے۔جب میں نے اس لکڑی کو چھوڑ دیا تو زمین پر گر پڑی۔پھر میں نے دیکھا کہ وہ لکڑی ایسی غائب ہو گئی گویا اسے زمین نے نگل لیا۔پھر اس وقت سے لے کر آج تک خبیب کی ہڈیوں کا کوئی ذکر نہیں ہے۔(اسد الغابة في معرفة الصحابة جلد 1 صفحه684 ، خبيب بن عدى، دار الكتب العلميه بيروت 2003ء) ایک اور روایت کے مطابق حضرت عمرو بن امیہ ضمری بیان کرتے ہیں کہ جب میں نے حضرت خبیب کو رسیوں وغیرہ سے آزاد کر کے نیچے لٹایا تو میں نے اپنے پیچھے کوئی آہٹ کی آواز سنی۔پھر جب دوبارہ میں سیدھا ہوا تو کچھ بھی نظر نہ آیا اور حضرت خبیب کی نعش غائب ہو چکی تھی۔الاستيعاب في معرفة الاصحاب جزء2 صفحه 25 خبيب بن عدى دار الكتب العلمية بيروت 2002ء) '6 تو پہلی روایت جو زیادہ صحیح لگتی ہے کہ پیچھے جب دوڑے تو انہوں نے دریا میں پھینک دیا اور دریا نے اس کو بہا لیا یا آگے پیچھے کر دیا، ندی تھی پانی کا بہاؤ تھا تو مختلف روایات آتی ہیں۔بہر حال اسی نام سے مشہور ہو گئے تھے کہ ان کی نعش زمین میں غائب ہو گئی۔(الاصابة في تمييز الصحابه جزء 2 صفحه 226 ، خبيب بن عدى دار الكتب العلميه بيروت 2005ء) تو وہ کفار جو کچھ کرنا چاہتے تھے کوئی معلوم نہ کر سکے اس نعش کی بے حرمتی وہ نہیں کر سکے اور اللہ تعالیٰ نے اس کو محفوظ رکھا۔ایک روایت حضرت خبیب بن عدی کے قید کے واقعے کے بارے میں اس طرح بھی ہے کہ مَاوِيَّه، مُجیر بن ابو اهَاب کی آزاد کردہ لونڈی تھی مکہ میں ان ہی کے گھر میں حضرت خبیب بن عدی قید تھے تاکہ حرمت والے مہینے ختم ہوں تو انہیں قتل کیا جا سکے۔ماویہ نے بعد میں اسلام قبول کر لیا تھا اور وہ اچھی مسلمان