خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 536 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 536

خطبات مسرور جلد 17 536 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 18 اکتوبر 2019 کہا کہ بچو، یہاں سے نکلو۔پھر ہم تیزی سے وہاں سے نکلے یہاں تک کہ ایک پہاڑ پر چڑھ گئے۔وہ لوگ بھی ہماری کھوج میں نکلے۔جب ہم پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ گئے تو وہ مایوس ہو کر چلے گئے۔پھر ہم نیچے اتر کر پہاڑ کی ایک غار میں گھس گئے اور پتھر اکٹھے کر کے اوپر نیچے رکھ دیے اور وہیں ہم نے رات گزاری۔صبح ہوئی تو ایک قریشی ادھر آنکلا جو اپنے گھوڑے کو لے کر جارہا تھا۔ہم پھر غار میں چھپ گئے۔میں نے کہا اگر اس نے ہمیں دیکھ لیا ہو تو یہ شور مچائے گا لہذا اس کو پکڑ کر مار دینا ہی بہتر ہے۔حضرت عمرو بیان کرتے ہیں کہ میرے پاس ایک خنجر تھا جسے میں نے ابوسفیان کے لیے تیار کیا تھا۔میں نے اس خنجر سے اس شخص کے سینے پر وار کیا جس سے وہ اس زور سے چیخا کہ سکے والوں نے اس کی آواز سن لی۔کہتے ہیں میں دوبارہ اپنی جگہ پر آکر چھپ گیا۔جب لوگ اس کے پاس تیزی سے پہنچے تو اپنی آخری سانس لے رہا تھا۔انہوں نے اس سے پوچھا کہ تم پر کس نے حملہ کیا؟ اس نے کہا کہ عمرو بن امیہ نے۔پھر موت نے اس پر غلبہ پالیا اور اسی جگہ وہ مر گیا اور انہیں ہماری جگہ کا پتا نہیں بتاسکا۔اس زمانے میں یہی حالت تھی کہ اگر دشمنوں کو پتا لگ جاتا تھا تو پھر ایک دوسرے کی شدید مخالفت کی وجہ سے یہی ہو تا تھا کہ قتل کر دو اور ان کو یہی شک تھا کہ اس نے کیونکہ ہمیں دیکھ لیا ہے اب یہ جا کے بتا بھی دے گا اور پھر کفار جو ہیں وہ ہمارے پیچھے آئیں گے اور پھر ہمیں بھی قتل کریں گے تو اس سے پہلے دفاع کے طور پر انہوں نے یہ کیا۔بہر حال وہ کہتے ہیں کہ وہ ہمارا پتابتا نہیں سکا۔وہ اسے اٹھا کر لے گئے اور شام کے وقت میں نے اپنے ساتھی سے کہا اب ہم محفوظ ہیں۔پس ہم رات کو یکے سے مدینے کی طرف نکلے تو ایک پارٹی کے پاس سے گزرے جو حضرت خبیب بن عدی کی نعش کی حفاظت کر رہی تھی۔ان میں سے ایک شخص نے حضرت عمرو کو دیکھ کر کہا کہ خدا کی قسم ! جتنی اس شخص کی چال عمرو بن امیہ سے ملتی ہے اس سے زیادہ میں نے آج سے پہلے کبھی نہیں دیکھی۔اگر وہ مدینے میں نہ ہو تا تو میں کہتا کہ یہی عمرو بن امیہ ہے۔یہاں بھی اللہ تعالیٰ نے ان کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا۔کہتے ہیں کہ حضرت جبار جب اس لکڑی تک جس پر حضرت خبیب کو لٹکایا گیا تھا وہاں تک پہنچے تو جلدی سے اسے اٹھا کر چل پڑے۔وہ لوگ بھی آپ کے پیچھے بھاگے۔ایک دوسری روایت میں آتا ہے کہ وہ لوگ شراب کے نشے میں تھے ، بدمست تھے ، کچھ جاگ رہے تھے ، کچھ سورہے تھے ، کچھ اونگھ رہے تھے تو بہر حال ان کو پتا نہیں لگا اور یہ جلدی سے لے کے بھاگے اور پھر ان کو بھی پتا لگا تو آپ لوگوں کے پیچھے بھاگے یہاں تک کہ جب حضرت جبار یأجج پہاڑ کے سیلابی نالے کے پاس پہنچے تو انہوں نے اس لکڑی کو اس کے اندر پھینک دیا۔وہ لوگ بھی پیچھے پہنچے لیکن اللہ تعالیٰ نے اس لکڑی کو ان کافروں کی آنکھوں سے اوجھل کر دیا اور وہ اسے نہ ڈھونڈ سکے۔حضرت عمرو بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنے ساتھی یعنی حضرت جبار سے کہا کہ تم یہاں سے نکلو اور اپنے اونٹ پر بیٹھ کر روانہ ہو جاؤ۔میں ان لوگوں کو تمہارے پیچھے آنے سے روکے رکھوں گا۔حضرت عمرو بیان کرتے ہیں کہ پھر میں چلا یہاں تک کہ ضَخنان پہاڑ تک پہنچ گیا جو ملے سے پچیس میل رض