خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 535 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 535

خطبات مسرور جلد 17 535 42 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 18 اکتوبر 2019 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفتہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 18 / اکتوبر 2019ء بمطابق18/اخاء1398 ہجری شمسی بمقام ایگزیبیشن سنٹر گیسن (Giesen)، (جرمنی) تشہد و تعوذ اور سورہ الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بدری صحابہ کا جو میں نے ذکر شروع کیا ہوا ہے آج بھی وہی ذکر کروں گا۔گذشتہ دورے کی وجہ سے، مختلف جلسوں کی وجہ سے یہ ذکر بیچ میں ٹوٹ گیا تھا، اس کا سلسلہ ٹوٹ گیا تھا۔جو آخری خطبہ میں نے صحابہ کے ذکر پہ دیا تھاوہ 20 / ستمبر کا تھا۔اس میں حضرت خبیب بن عدی کا ذکر کیا گیا اور اس کا کچھ حصہ بیان کرنے سے رہ گیا تھا۔اس میں بیان کیا گیا تھا کہ انہوں نے شہادت کے وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اللہ تعالیٰ کو یہ کہا کہ میر اسلام پہنچا دے تو بہر حال یہ وہ لوگ تھے جو بڑے اعلیٰ مقام کے تھے اور اللہ تعالیٰ کا بڑا قرب حاصل کرنے والے تھے اور اللہ تعالیٰ کا بھی ان سے سلوک کا پتا لگتا ہے کہ جب انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ اور تو یہاں کوئی ذریعہ نہیں ہے تو ہی میر اسلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچا دے تو پھر وہ سلام ، اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچا بھی دیا اور وہاں مجلس میں بیٹھے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وعلیکم السلام بھی کہا اور اس کا صحابہ سے ذکر بھی کیا کہ ان کی شہادت ہو گئی ہے۔(فتح الباری شرح صحیح البخاری للامام ابن حجر عسقلانی جزء 7 صفحہ 488 کتاب المغازی حدیث نمبر 6 408 قدیمی کتب خانہ کراچی) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے، حضرت خبیب بن عدی اور ان کے ساتھیوں کی جو شہادت ہوئی تھی اس کے بعد حضرت عمرو بن امیہ کو یہ حکم دیا کہ سگے جاؤ اور اس ظلم کا جو کرتا دھرتا ہے ابوسفیان اس کو قتل کر دینا، اس کی یہ سزا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جبار بن صخر انصاری کو بھی ساتھ روانہ فرمایا۔یہ دونوں اپنے اونٹ یأجج وادی جو ملے سے آٹھ میل کے فاصلے پر واقع ہے اور اس کی یہ گھائی تھی اس میں باندھ کر رات کے وقت مکے میں داخل ہوئے۔حضرت جبار نے حضرت عمرو سے کہا کہ کاش ہم طواف کعبہ کر سکیں اور دور کعت نماز ادا کر سکیں یعنی کعبہ میں دور کعت نماز ادا کر سکیں۔حضرت عمرو نے کہا کہ قریش کا یہ طریق ہے ہے کہ رات کو کھانا کھانے کے بعد اپنے صحنوں میں بیٹھ جاتے ہیں۔کہیں ہم پکڑے نہ جائیں۔حضرت جبار نے کہا ان شاء اللہ ایسا ہر گز نہیں ہو گا۔حضرت عمرو بیان کرتے ہیں کہ پھر ہم نے طواف کعبہ کیا اور دور کعت نماز پڑھی۔پھر ہم ابوسفیان کی تلاش میں نکل پڑے کہ اللہ کی قسم ! ہم پیدل چل رہے تھے کہ اہل مکہ میں سے ایک آدمی نے ہمیں دیکھا اور مجھے پہچان لیا اور کہنے لگا کہ عمرو بن امیہ یہ تو وہی ہے ضرور کسی شر کی نیت سے آیا ہو گا۔اس پر میں نے اپنے ساتھی سے