خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 38
38 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 جنوری2019 خطبات مسرور جلد 17 ایک مقتول کی طرف اشارہ کیا تو عمرو بن امیہ نے جواب دیا کہ یہ عامر بن فهيرة ہے۔عامر بن طفیل نے کہا کہ میں نے دیکھا یعنی عامر بن فهيرة کو دیکھا کہ وہ قتل کئے جانے کے بعد آسمان کی طرف اٹھائے گئے ہیں یہاں تک کہ میں اب بھی دیکھ رہاہوں کہ آسمان ان کے اور زمین کے درمیان ہے۔پھر وہ زمین پر اتارے گئے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی خبر پہنچی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے قتل کئے جانے کی خبر صحابہ کو دی اور فرمایا تمہارے ساتھی شہید ہو گئے ہیں اور انہوں نے اپنے رب سے دعا کی ہے کہ اے ہمارے رب !ہمارے متعلق ہمارے بھائیوں کو بتا کہ ہم تجھ سے خوش ہو گئے اور تو ہم سے خوش ہو گیا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کے متعلق بتادیا۔(صحيح البخاری کتاب المغازی باب غزوه الرجيع۔۔۔الخ حديث 4093) یہ بھی بخاری کی روایت ہے۔غیر کو بھی اللہ تعالیٰ نے یہ نظارہ دکھا دیا جس طرح کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ہوئی تھی۔حضرت عامر بن فهيرة کو کس نے شہید کیا اس کے بارے میں اختلاف ہے۔بعض روایات میں ہے کہ آپ کو عامر بن طفیل نے شہید کیا، جس نے یہ بات بیان کی ہے۔(الاستيعاب في معرفة الاصحاب جلد 2 صفحہ 796 عامر بن فهيرة مطبوعة دار الجيل بيروت 1992ء) عامر بن طفیل نے ہی پوچھا تھا نا کہ کس نے شہید کیا تھا۔یہ دشمنوں میں سے تھا۔اور جبکہ دوسری روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو جبار بن سلمی نے شہید کیا تھا۔بہر حال بئر معونہ کے وقت یہ شہید ہوئے تھے۔الاستيعاب في معرفة الاصحاب جلد 1 صفحہ 2292-230 جبار بن سلمى مطبوعه دار الجيل بيروت 1992ء) حضرت مصلح موعودؓ حضرت عامر بن فهيرة کے شہادت کے واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ چنانچہ دیکھ لو اسلام نے تلوار کے زور سے فتح نہیں پائی بلکہ اسلام نے اس اعلیٰ تعلیم کے ذریعہ فتح پائی ہے جو دلوں میں اتر جاتی تھی اور اخلاق میں ایک اعلیٰ درجہ کا تغیر پیدا کر دیتی تھی۔ایک صحابی کہتے ہیں میرے مسلمان ہونے کی وجہ محض یہ ہوئی کہ میں اس قوم میں مہمان ٹھہرا ہوا تھا جس نے غداری کرتے ہوئے مسلمانوں کے ستر قاری شہید کر دئے تھے۔جب انہوں نے مسلمانوں پر حملہ کیا تو کچھ تو اونچے ٹیلے پر چڑھ گئے اور کچھ ان کے مقابلے میں کھڑے رہے۔چونکہ دشمن بہت بڑی تعداد میں تھا اور مسلمان بہت تھوڑے تھے اور وہ بھی نہتے اور بے سروسامان۔اس لئے انہوں نے ایک ایک کر کے تمام مسلمانوں کو شہید کر دیا۔آخر میں صرف ایک صحابی رہ گئے جو ہجرت میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک تھے اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام تھے۔ان کا نام عامر بن فهيرة تھا۔بہت سے لوگوں نے مل کر اُن کو پکڑ لیا اور ایک شخص نے زور سے نیزہ ان کے سینے میں مارا۔نیزے کا لگنا تھا کہ ان کی زبان سے بے اختیار یہ فقرہ نکلا کہ فُزْتُ وَرَبِّ الكَعْبَةِ- کعبہ کے رب کی قسم ! میں کامیاب ہو گیا۔جب میں نے ان کی زبان سے یہ فقرہ سنا۔یعنی حملہ کرنے والوں کے ساتھیوں میں سے وہی صحابی وہی جو بعد میں مسلمان ہو گئے تھے۔کہتے ہیں کہ جب میں نے ان کی زبان سے یہ فقرہ سنا تو میں حیران ہوا اور میں نے کہا یہ شخص اپنے رشتہ داروں سے دور ، اپنے بیوی بچوں سے دور اتنی بڑی مصیبت میں مبتلا ہوا اور نیزہ اس کے سینہ میں مارا گیا مگر اس نے مرتے ہوئے اگر کچھ کہا تو صرف یہ کہ کعبہ کے