خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 533 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 533

خطبات مسرور جلد 17 533 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 11 اکتوبر 2019 نہیں ہوگی وہ عمل بھی ضائع نہیں ہوگا۔فرمایا جب کبھی تم اپنا نقصان کرو گے تو اپنے ہاتھوں سے نہ دشمن کے ہاتھوں سے۔اگر تمہاری زمینی عزت ساری جاتی رہے تو خدا تمہیں ایک لازوال عزت آسمان پر دے گا سو تم اس کو مت چھوڑو " فرمایا تم خدا کی آخری جماعت ہو سو وہ عمل نیک دکھلاؤ جو اپنے کمال میں انتہائی درجہ پر ہو۔ہر ایک جو تم میں ست ہو جائے گاوہ ایک گندی چیز کی طرح جماعت سے باہر پھینک دیا جائے گا اور حسرت سے مرے گا اور خدا کا کچھ نہ بگاڑ سکے گا۔دیکھو میں بہت خوشی سے خبر دیتا ہوں کہ تمہارا خدا در حقیقت موجود ہے۔اگر چہ سب اسی کی مخلوق ہے لیکن وہ اس شخص کو چن لیتا ہے جو اس کو چتا ہے۔وہ اس کے پاس آجاتا ہے جو اس کے پاس جاتا ہے۔جو اس کو عزت دیتا ہے وہ اس کو بھی عزت دیتا ہے۔" یعنی انسان کو۔مشتمل (کشتی نوح، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 15) اللہ تعالیٰ ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ان درد بھرے الفاظ کو سمجھتے ہوئے ایمان میں بڑھنے کی توفیق عطا فرمائے، عبادتوں کا حق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے، خدا تعالیٰ سے زندہ تعلق پیدا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہم اس مسجد کو بھی ہمیشہ آباد رکھنے والے ہوں۔اب میں مسجد کے بارے میں بعض کو ائف بھی پیش کر دیتا ہوں۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے چند سال پہلے اس مسجد کے لیے کوشش کی گئی۔اللہ تعالیٰ نے پھر جگہ عطا بھی فرما دی جو کہ یہ سارا رقبہ 2640 مربع میٹر پر ہے اور اس میں پہلے بھی پندرہ کمروں پر مشتمل ایک تین منزلہ عمارت موجود تھی۔ایک بڑا ہال تھا اور خریداری کے لیے کچھ حصہ مرکز سے قرضِ حسنہ کے طور پر اس وقت لیا گیا تھا اور امیر صاحب کہتے ہیں کہ اس میں سے سوائے پچاس ہزار یورو کے تقریباً سارا ادا ہو چکا ہے۔پھر کو نسل کے بعض اعتراضات تھے ان کو مختلف میٹنگ میں دور کیے۔میئر کے ساتھ مختلف میٹنگز کر کے نقشہ جات جمع کرائے اور اللہ کے فضل سے یہ نقشے بھی پاس ہوئے۔جو ان کا نقشہ تھا، پلان (plan) تھا اس کی تعمیر کے سلسلے میں ان کی رپورٹ کے مطابق آرکیٹکٹ نے ایک ملین یورو کا اندازہ دیا تھا اور اس کو بھی مجلس خدام الاحمدیہ فرانس نے پورا کرنے کا وعدہ کیا اور اپنی ذمہ داری قبول کی لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ مسجد پانچ لاکھ تیس ہزار یورو میں مکمل ہو گئی۔اب تک خدام الاحمدیہ کی طرف سے ساڑھے تین لاکھ یورو ملے ہیں ، باقی جماعت نے ادا کیے ہیں اور خدام الاحمدیہ کہتی ہے کہ ہم باقی بھی ادا کر دیں گے لیکن خدام الاحمدیہ نے تو ادا کر دیے اور پورا کر بھی دیں گے شاید ، ان شاء اللہ تعالیٰ، شاید کیا ان شاء اللہ تعالیٰ کر دیں گے لیکن باقی جماعت کیوں اس سے محروم رہ رہی ہے۔اگر یہ مسجد اب بن گئی ہے تو لجنہ اور انصار کو چاہیے کہ ایک مسجد کی تعمیر کی ذمہ داری وہ لیں دونوں مل کے لیں اور اگلے تین سالوں کے اندر ایک اور مسجد یہاں بنانی چاہیے جو انصار اور لجنہ کو مل کر بنانی چاہیے۔اس مسجد کی تعمیر کے لیے ایک کمیٹی بنائی گئی تھی جس میں مکرم اسلم دو بوری (Doobory) صاحب شہباز صاحب، اور محمد عاصم صاحب، منصور صاحب نے ان کی رپورٹ کے مطابق بڑی محنت کی ہے۔اللہ تعالیٰ ان کو جزا دے۔اور اس مسجد میں قانونی طور پر 250 افراد کے نماز پڑھنے کی جگہ ہے جو کو نسل نے اپنی کیلکولیشن (calculation) کی اس کے مطابق اور