خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 532 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 532

خطبات مسرور جلد 17 532 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 اکتوبر 2019 تاکہ تعارف اور اُنس بڑھ کر وحدت جمہوری پیدا ہو۔پھر اسی طرح تمام دنیا کے اجتماع کے لیے ایک دن عمر بھر میں مقرر کر دیا کہ مکہ کے میدان میں سب جمع ہوں یعنی جن کو توفیق ہے حج کرنے کی وہ حج کو جائیں۔غرضیکہ اس طرح سے اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ آپس میں الفت اور انس ترقی پکڑے اور پھر آپ اپنے مخالفوں کے بارے میں بتارہے ہیں، افسوس کہ ان کو اس بات کا علم نہیں کہ اسلام کا فلسفہ کیسا پکا ہے، جو اسلام کے مخالف ہیں ان کو پتا ہی نہیں جو عبادتوں پر اعتراض کرتے رہتے ہیں، پانچ وقت کی عبادتیں ان کا مقصد کیا ہے، ہر ہفتے کی عبادت کا کیا مقصد ہے، عیدوں کی ، باقی باتوں کی تو آپ فرمارہے ہیں یہ فلسفہ ہے اور اس کو یادرکھنا چاہیے۔فرمایا کہ خدا تعالیٰ کے احکام میں ڈھیلا پن اور اس سے بکلی روگردانی کبھی ممکن ہی نہیں۔فرماتے ہیں کہ افسوس علم نہیں کہ اسلام کا فلسفہ کیسا پکا ہے۔دنیوی حکام کی طرف سے جو احکام پیش ہوتے ہیں ان میں تو انسان ہمیشہ کے لیے ڈھیلا ہو سکتا ہے لیکن خدا تعالیٰ کے احکام میں ڈھیلا پن اور اس سے بکلی روگردانی کبھی ممکن ہی نہیں۔کون سا ایسا مسلمان ہے جو کم از کم عیدین کی بھی نماز نہ ادا کرتا ہو۔پس ان تمام اجتماعوں کا یہ فائدہ ہے کہ ایک کے انوار دوسرے میں اثر کر کے اسے قوت بخشیر (ماخوذ از ملفوظات جلد 7 صفحہ 129-130) آپس میں ملتے جلتے ہیں تو بہر حال اثر ہوتا ہے لیکن یہ تو ان لوگوں کے لیے جو بالکل ہی ایمان میں کمزور ہیں لیکن حقیقی ایمان یہی ہے کہ پانچ وقت نمازوں کے لیے مسجد میں آؤ۔جبکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ مسجد عطا کر دی ہے تو آپ لوگوں کو جمع ہو کر اس وحدت کا نظارہ بھی یہاں پیش کرنا چاہیے ، جن کو سفر کی بھی سہولتیں ہیں۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اسے آباد رکھیں پھر اللہ تعالیٰ بھی کسی طرح مہربانی فرماتا ہے جیسا کہ ابھی بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو اس کے لیے دعاؤں پر لگا دیا جو پانچ وقت نمازوں کے لیے آتے ہیں اور پھر جو نماز باجماعت ہے اس کا ثواب بھی اللہ تعالیٰ نے ستائیس گنازیادہ رکھا ہے۔(صحيح البخارى كتاب الاذان باب فضل صلاة الجماعة حديث (645) پس اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے اس اظہار کے باوجود اگر ہم باوجود توفیق ہوتے ہوئے اس کی قدر نہیں کرتے تو یہ بد قسمتی ہے۔ہر احمدی کے لیے یہ بہت سوچنے کا مقام ہے اور ایک کوشش سے مسجد کو آباد کرنے کی ضرورت ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ " اے وے تمام لو گو ! جو اپنے تئیں میری جماعت شمار کرتے ہو آسمان پر تم اس وقت میری جماعت شمار کئے جاؤ گے جب سچ مچ تقوی کی راہوں پر قدم مارو گے۔سو اپنی پنج وقتہ نمازوں کو ایسے خوف اور حضور سے ادا کرو کہ گویا تم خدا تعالیٰ کو دیکھتے ہو۔" پنج وقتہ نمازوں کو ایسے خوف اور حضور سے ادا کرو کہ گویا تم خدا تعالیٰ کو دیکھتے ہو " اور اپنے روزوں کو خدا کے لیے صدق کے ساتھ پورے کرو۔ہر ایک جو ز کوۃ کے لائق ہے وہ زکوۃ دے اور جس پر حج فرض ہو چکا ہے اور کوئی مانع نہیں وہ حج کرے۔نیکی کو سنوار کر ادا کرو اور بدی کو بیزار ہو کر ترک کرو۔یقینآیا در کھو کہ کوئی عمل خدا تک نہیں پہنچ سکتا جو تقوی سے خالی ہے۔ہر ایک نیکی کی جڑ تقوی ہے۔جس عمل میں یہ جڑ ضائع