خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 527
خطبات مسرور جلد 17 527 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 11 اکتوبر 2019 استعمال چاہیے یار جولیت کے قومی ہیں ان کو ختم کر دو یہ تو کوئی چیز نہیں بلکہ ان کو پاک کرنا، ان کا پاک استعمال کرنا اصل چیز ہے۔فرمایا کہ قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ اور ایسے ہی یہاں بھی بیان فرمایا کہ متقی کی زندگی کا نقشہ کھینچ کر آخر میں بطور نتیجہ یہ کہا ہے وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ۔متقی کا نقشہ کھینچا پہلے فرمایا قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ پھر فرمایا وَ أُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ۔یعنی وہ لوگ جو تقوی پر قدم مارتے ہیں، ایمان بالغیب لاتے ہیں ، نماز ڈگمگاتی ہے پھر اسے کھڑا کرتے ہیں یعنی مختلف خیالات نماز میں آتے ہیں پھر اللہ کی طرف توجہ کرتے ہیں۔خدا کے دیے ہوئے سے دیتے ہیں، جو اللہ تعالیٰ نے نعمتیں دی ہیں اس میں سے اس کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔فرمایا کہ باوجو د خطرات نفس بلا سوچے گذشتہ اور موجودہ کتاب اللہ پر ایمان لاتے ہیں۔اللہ نے کہا ہے کہ سب کتابوں پر ایمان لاؤ تو ایمان لاتے ہیں اور آخر کار وہ یقین تک پہنچ جاتے ہیں۔یہی وہ لوگ ہیں جو ہدایت کے سر پر ہیں۔وہ ایک ایسی سڑک پر ہے جو بر ابر آگے کو جارہی ہے اور جس سے آدمی فلاح تک پہنچتا ہے۔یہی لوگ فلاح یاب ہیں جو منزلِ مقصود تک پہنچ گئے اور راہ کے خطرات سے نجات پاچکے ہیں۔پھر فرمایا اس لیے شروع میں ہی اللہ تعالیٰ نے ہم کو تقوی کی تعلیم دے کر ایک ایسی کتاب ہم کو عطا کی ہے جس میں تقوی کے وصایا ہیں۔فرماتے ہیں سو ہماری جماعت یہ غم کل دنیوی غموں سے بڑھ کر اپنی جان پر لگائے کہ ان میں تقوی ہے یا نہیں۔(ماخوذ از ملفوظات جلد 1 صفحہ 35) انسان کس طرح دیکھے کہ اس میں تقوی ہے یا نہیں اور متقی کون لوگ ہوتے ہیں اس کی وضاحت فرماتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ "خدا کے کلام سے پایا جاتا ہے کہ متقی وہ ہوتے ہیں جو حلیمی اور مسکینی سے چلتے ہیں۔" بہت نرمی ہے بہت عاجزی ہوتی ہے ان میں " وہ مغرورانہ گفتگو نہیں کرتے۔" تکبر بالکل نہیں ہوتا ان میں۔" ان کی گفتگو ایسی ہوتی ہے جیسے چھوٹا بڑے سے گفتگو کرے۔" حضور نے فرمایا کہ "ہم کو ہر حال میں وہ کرنا چاہیے جس سے ہماری فلاح ہو۔اللہ تعالیٰ کسی کا اجارہ دار نہیں۔وہ خاص تقوی کو چاہتا ہے۔جو تقوی کرے گا وہ مقام اعلیٰ کو پہنچے گا۔" فرمایا کہ " آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یا حضرت ابراہیم علیہ السلام میں سے کسی نے وراثت سے تو عزت نہیں پائی۔" فرماتے ہیں " گو ہمارا ایمان ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے والد ماجد عبد اللہ مشرک نہ تھے لیکن اس نے نبوت تو نہیں دی۔یہ تو فضل الہی تھا ان صد قوں کے باعث جو ان کی فطرت میں تھے" یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی۔"یہی فضل کے محرک تھے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام جو ابو الانبیاء تھے انہوں نے اپنے صدق و تقوی سے ہی بیٹے کو قربان کرنے میں دریغ نہ کیا۔خود آگ میں ڈالے گئے۔ہمارے سید و مولیٰ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی صدق و وفاد یکھیئے آپ نے ہر ایک قسم کی بد تحریک کا مقابلہ کیا۔طرح طرح کے مصائب و تکالیف اٹھائے لیکن پروانہ کی۔یہی صدق و وفا تھا جس کے باعث اللہ تعالیٰ نے فضل کیا۔اسی لیے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: إِنَّ اللهَ وَمَلَئِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِي يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيما - (الاحزاب: 57 ) اللہ تعالیٰ اور اس کے تمام فرشتے رسول پر درود بھیجتے ہیں۔اے ایمان والو ! تم