خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 528 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 528

خطبات مسرور جلد 17 درود و سلام بھیجو نبی پر۔" 528 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 اکتوبر 2019 ( ملفوظات جلد 1 صفحہ 37) پس ہمیں یہی حکم ہے کہ اگر دعا کی قبولیت چاہتے ہو تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجو اور بغیر درود کے کی گئی دعائیں آسمان تک نہیں پہنچتیں، انسان کامیابیاں حاصل نہیں کر سکتا۔پس عبادتوں کے معیار بہتر کرنے کے لیے اور اللہ تعالیٰ کا قرب پانے کے لیے درود بھی ضروری ہے اور درود بھیجنے والا یقیناً پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوے کو سامنے رکھے گا۔آپ نے کیا عبادت کے معیار قائم کیے، اپنی امت کو اس کی تلقین فرمائی۔آپ نے فرمایا کہ میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے۔(سنن النسائی کتاب عشرة النساء باب حب النساء حديث 3391) پھر مخلوق کے حق ادا کرنے کے لیے بھی آپ نے اپنے نمونے قائم فرمائے جس کی مثالیں ملنی مشکل ہیں۔اپنی فکر بھی کبھی نہیں کی۔جو کچھ تھا، وادی کے برابر بھی دولت تھی تو وہ بھی بانٹ دی۔کوئی سوالی آیا اس کو خالی ہاتھ نہیں بھیجا۔(صحیح مسلم کتاب الفضائل باب في سخائه حدیث 2312) اس کے علاوہ پھر اور بھی آپ کا ہاتھ ہر وقت مخلوق کی خدمت کے لیے تیار رہتا تھا۔پس درود بھیجنے والا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ کو سامنے رکھ کر جب درود بھیجتا ہے تو پھر ہی اس کی توجہ بھی اس نمونے پر چلنے کی طرف ہوتی ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قائم فرمائے۔جب یہ حالت ہو تو پھر اللہ تعالیٰ اپنے پیارے نبی، اپنے پیارے بندے سے ہماری محبت کے اظہار اور اس پر درود بھیجنے کی وجہ سے ہماری دعاؤں کو بھی قبولیت کا درجہ دیتا ہے اور تب ہی ہم اللہ تعالیٰ کا قرب پا کر حلیمی اور مسکینی دکھانے والے بن کر ان لوگوں میں شامل ہونے والے بن سکتے ہیں جو تقوی پر چلنے والے ہیں اور یہی وہ لوگ ہیں جو کامیابی حاصل کرنے والے ہیں، فلاح پانے والے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک موقعے پر فرماتے ہیں کہ اگر ہم میں نری باتیں ہی باتیں ہیں تو یاد رکھو کہ کچھ فائدہ نہیں ہے۔فرمایا کہ فتح کے لیے تقوی ضروری ہے۔فتح چاہتے ہو تو متقی بن جاؤ اور یہی حقیقی تقوی ہے جو اللہ تعالیٰ کی حقیقی پہچان کرواتا ہے اور اس کے حکموں پر چلنے والا بناتا ہے۔پھر نماز کی حقیقت بیان فرماتے ہوئے کہ نماز کیا چیز ہے اور حقیقی نماز کیسی ہونی چاہیے آپ فرماتے ہیں کہ " بہت ہیں کہ زبان سے تو خدا تعالیٰ کا اقرار کرتے ہیں لیکن اگر ٹٹول کر دیکھو تو معلوم ہو گا کہ ان کے اندر دہریت ہے کیونکہ دنیا کے کاموں میں جب مصروف ہوتے ہیں تو خدا تعالیٰ کے قہر اور اس کی عظمت کو بالکل بھول جاتے ہیں۔اس لئے یہ بات بہت ضروری ہے کہ تم لوگ دعا کے ذریعہ اللہ تعالیٰ سے معرفت طلب کرو۔بغیر اس کے یقین کامل ہر گز حاصل نہیں ہو سکتا۔وہ اس وقت حاصل ہو گا جبکہ یہ علم ہو کہ اللہ تعالیٰ سے قطع تعلق کرنے میں ایک موت ہے۔گناہ سے بچنے کے لئے جہاں دعا کرو وہاں ساتھ ہی تدابیر کے سلسلہ کو ہاتھ سے نہ چھوڑو۔" دعا بھی ضروری ہے ، تدبیر بھی ضروری ہے۔" اور تمام محفلیں اور مجلسیں جن میں شامل ہونے سے گناہ کی تحریک ہوتی ہے ان کو ترک کرو۔خود ہم جائزے لے سکتے ہیں ہر کوئی ، کون کون سی ایسی مجلسیں ہیں، کون کون سی (ماخوذ از ملفوظات جلد 1 صفحہ 232)