خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 526 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 526

خطبات مسرور جلد 17 526 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 اکتوبر 2019 سب سے پہلے تو ہر احمدی کو اپنے نمازوں کے جائزے لینے چاہئیں کہ کیا ان کی پانچ وقت با قاعدگی سے نماز پڑھنے کی طرف توجہ ہے اور پھر باجماعت نماز پڑھنے کی طرف توجہ ہے ؟ صرف اتنا تو کافی نہیں کہ ہماری مسجد بن گئی۔جنت میں گھر بنانے کے لیے تو اتنا ہی کافی نہیں ہے کہ مسجد بنالی، اس کے لیے ایمان کے ساتھ عمل کی بھی ضرورت ہے، اللہ تعالیٰ کے حکموں پر چلنے کی بھی ضرورت ہے، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت میں ہونے کا حق ادا کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ہر سال ہزاروں مسجد میں مسلمان بناتے ہیں لیکن اگر ان میں فرقہ واریت کے درس دیے جاتے ہیں، ان میں اللہ تعالیٰ کے خوف اور خشیت اور اللہ تعالیٰ کے بندوں کے حقوق کی ادائیگی کے بجائے ذاتی مفادات یا صرف اسی فرقے کے مفادات کی باتیں کی جاتی ہیں یا نئی نئی بدعات نام نہاد علماء پیدا کر رہے ہیں جن کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے کوئی تعلق نہیں تو وہ مسجدیں اللہ تعالیٰ کے نزدیک اور اس کے رسول کے نزدیک جنت میں لے جانے والی مسجد میں نہیں۔پس مسجد کا حق ادا کرنا اور اسے جنت لے جانے کا ذریعہ بنانا اور اس کی تعمیر سے جنت میں ایک گھر بنانا ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے اور اس ذمہ داری کو ہر احمدی کو سمجھ کر پھر اس پر عمل کرنے اور اس کا حق ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔اور اس زمانے میں ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام صادق نے ایک حقیقی مسلمان بننے اور عبادتوں اور اپنی مسجدوں کے حق ادا کرنے اور اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے حق ادا کرنے کے بارے میں جس طرح بتایا ہے اسے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔تب ہی ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ پر پختہ اور کامل ایمان لانے والے ہیں، یوم آخرت پر کامل ایمان اور یقین رکھتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لیے اپنی نمازوں کو قائم رکھنے والے ہیں اور اپنے مال قربان کر کے اللہ تعالیٰ کے بندوں کے حقوق بھی قائم کرنے والے ہیں اور اگر کسی ہستی کا ہمیں خوف ہے تو وہ خد اتعالیٰ کا ہے۔اللہ تعالیٰ کی خشیت ہی ہمارے دلوں میں ہے کیونکہ ہم اس سے پیار کرنے والے ہیں۔کسی دنیاوی چیز سے ہمیں خوف نہیں ہے، کسی دنیاوی چیز سے ہمیں وہ محبت نہیں جو ہمیں خدا تعالیٰ سے ہے۔ہم اپنے دنیاوی مفادات کو اپنے ایمان اور اپنے دین کے لیے قربان کرنے والے ہیں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک حقیقی احمدی بننے اور خد اتعالیٰ کا حقیقی عبد بننے کے لیے جو نصائح ہمیں فرمائی ہیں ان میں سے بعض میں پیش کرتا ہوں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے جس قدر قوی عطا فرمائے ہیں ہاتھ پاؤں اور باقی چیزیں، آنکھیں زبان ہر چیز جو ہمیں عطا فرمائی ہے وہ ضائع کرنے کے لیے نہیں ہیں، وہ ضائع کرنے کے لیے نہیں دیے گئے ، ان کی تعدیل اور جائز استعمال کرنا ہی ان کی نشو و نما ہے، اس لیے کہ ان کی نشو و نما ہو اور نشو و نما کس طرح ہو گی کہ ان کا جائز استعمال ہو ، ان کا غلط استعمال نہ ہو۔اسی لیے اسلام نے قوائے رجولیت یا آنکھ کے نکالنے کی تعلیم نہیں دی بلکہ ان کا جائز استعمال اور تزکیہ نفس کرایا ہے۔یہ نہیں کہ آنکھوں سے بد نظری کرنی ہے تو اس لیے آنکھیں نکال دو بلکہ ان کا جائز