خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 525
خطبات مسرور جلد 17 525 پیدا ہونا ایمان کو خطرے میں ڈال دیتا ہے اور خاتمہ بالخیر میں فتور پڑ جاتا ہے۔خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 11 اکتوبر 2019 (ماخوذ از ملفوظات جلد 1 صفحہ 53-54) یعنی خاتمہ بالخیر پھر یقینی نہیں رہتا، پھر یہ بات نہیں رہتی کہ انسان ایمان پر قائم رہے گا۔پس حقیقی عابد اور مسجدوں کو آباد کرنے والا وہی ہے جس کے دل میں آخرت کے بارے میں کبھی وسوسہ نہ آئے اور انجام بخیر کے لیے اللہ تعالیٰ کے حضور جھکا ر ہے۔پھر فرمایا کہ مسجدیں آباد وہی کر سکتے ہیں یا انھی کو مسجدوں کی تعمیر کرنے کا فائدہ ہے جو نمازیں قائم کرنے والے ہیں، اس بات کا عہد کرتے ہیں کہ ہم نے یہ مسجد صرف اس لیے نہیں بنائی کہ دنیا کو دکھا دیں کہ ہماری بھی ایک مسجد ہے بلکہ اس کو پانچ وقت آباد کرنا اب ہمارا کام ہے۔اللہ تعالیٰ نے یہاں نماز قائم کرنے والے فرمایا ہے اور قائم کرنے کا مطلب ہی یہ ہے کہ جو باجماعت نماز ادا کرنے والے ہیں۔پھر زکوۃ کی طرف توجہ ہے، مالی قربانی کی طرف توجہ ہے تو مسجد آباد کرنے والوں کی یہ خصوصیت ہونی چاہیے کہ خدا تعالیٰ کے دین کی اشاعت کے لیے قربانیاں کریں اور اللہ تعالیٰ کے بندوں کے حقوق بھی ادا کریں اور یہ سب اس لیے ہے کہ اللہ تعالیٰ کی خشیت ہمارے دلوں میں بڑھے، اس کی رضا کے حصول کے لیے ہم بھر پور کوشش کریں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ سب کچھ کرنے والے ہی ہیں جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک ہدایت یافتہ ہیں یا ہدایت یافتہ لوگوں میں شمار کیے جائیں گے۔پس ہمیں ہمیشہ یہ دعا کرتے رہنا چاہیے اور اس کے مطابق کوشش کرنی چاہیے اور اللہ تعالی کے آگے جھکتے ہوئے یہ عرض کرنی چاہیے، نئے آنے والوں کو بھی اور پرانے احمدیوں کو بھی، بلکہ پرانے احمدیوں کی زیادہ ذمہ داری ہے اور خاص طور پر پاکستان سے آئے ہوؤں کی کہ وہ اس بات کا زیادہ خیال رکھیں کہ نئے آنے والوں کے لیے انہوں نے اپنے نمونے بھی قائم کرنے ہیں کہ ہمیں ہماری مسجد کی تعمیر کے بعد اس سوچ کے ساتھ اور اپنی عملی حالتوں کو اس فرمان کے مطابق کرتے ہوئے مسجد آباد کرنے کی توفیق عطا فرما اور ہمیں ہدایت یافتہ لوگوں میں شامل فرما۔مسجد آباد کرنے والوں کے بارے میں جو اللہ تعالیٰ کا یہ حکم ہے اس ارشاد پر اپنی کمزوریوں اور کو تاہیوں کی وجہ سے عمل نہ کر کے کہیں ہم اپنی دنیاو آخرت برباد کرنے والے نہ بن جائیں۔ہم پر رحم کرتے ہوئے ہمیں بھٹکنے سے بچائے رکھنا اور ہمیں سیدھے راستے پر چلائے رکھنا۔ہماری نیتوں کو ہمیشہ صاف اور نیک رکھنا۔ہم تیرا حق ادا کرنے والے بھی ہوں اور اس علاقے میں تیرے دین کا پیغام پہنچانے والے بھی ہوں۔ہم اس مسجد کی تعمیر کے ساتھ تیرے بھیجے ہوئے مسیح موعود کے ارشاد کے مطابق اس مسجد کو اسلام کی تبلیغ کا ذریعہ بنانے والے ہوں اور اپنا فضل فرماتے ہوئے ہمیں اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کا مورد بھی بنا جس میں آپ نے فرمایا کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی خاطر مسجد تعمیر کرتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اس کے لیے جنت میں ویسا ہی گھر تعمیر کرتا ہے۔(صحيح البخارى كتاب الصلوة باب من بنى مسجداً حديث 450) پس ہمیں حقیقی مومن بناتے ہوئے اپنے فضلوں سے نوازتا چلا جا۔پس ان باتوں کے حصول کے لیے