خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 37
خطبات مسرور جلد 17 37 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 جنوری2019 لیکن عموماًأروایت یہی ہے جو پہلے بیان ہو چکا ہے کہ ہجرت کے موقع پر ہی کہا تھا جیسا کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لکھا ہے۔جب عامر بن فهيرة بجرت کر کے مدینہ آئے تو وہاں آکر بیمار ہو گئے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی تو آپ تندرست ہو گئے تھے۔حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ ہجرت کر کے آئے تو آپ کے بعض صحابہ بیمار ہو گئے۔حضرت ابو بکرؓ، حضرت عامر بن فهيرة رضی اللہ عنہ، حضرت بلال بھی بیمار ہو گئے۔حضرت عائشہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی عیادت کی اجازت مانگی تو آپ نے ان کو اجازت عطا فرما دی۔حضرت عائشہ نے حضرت ابو بکر سے پوچھا کہ آپ کا کیا حال ہے تو انہوں نے جواب میں یہ شعر پڑھا: كل امْرِءٍ مُصَبَّحُ فِى أَهْلِهِ وَالْمَوْتُ أَدْنَى مِنْ شِرَاكِ نَعْلِهِ کہ ہر شخص جب اپنے گھر میں صبح کو اٹھتا ہے تو اسے صبح بخیر کہا جاتا ہے بحالیکہ موت اس کی جوتی کے تسمے سے بھی نزدیک تر ہوتی ہے۔یعنی کہ جب وہ سو کر اٹھتا ہے تو ایسی حالت میں ہوتا ہے کہ موت تو ایک دن آنی ہی آنی ہے۔پھر آپ نے حضرت عامر بن فُهَيْرَة سے ان کا حال دریافت کیا تو انہوں نے یہ شعر پڑھا کہ : اني وَجَدْتُ الْمَوْتَ قَبْلَ ذَوْقِهِ إنَّ الْجَبَانَ حَتْفَهُ مِنْ فَوْقِهِ کہ یقینا میں نے موت کو اس کا ذائقہ چکھنے سے قبل ہی پالیا ہے یقینا بز دل کی موت اچانک آجاتی ہے یعنی بہادر موت کے لئے ہر وقت تیار رہتا ہے اور بزدل نے اس کے لئے تیاری نہیں کی ہوتی۔پھر آپ نے حضرت بلال سے ان کا حال دریافت کیا تو انہوں نے یہ شعر پڑھا: يَالَيْتَ شِعْرِي هَلْ اَبِيْتَنَّ لَيْلَةً بِفَةٍ وَ حَوْلِي اذْخِرٌ وَّ جَلِيْلٌ کاش مجھے معلوم ہو کہ آیا میں کوئی رات وادی مکہ میں بسر کروں گا اور میرے ارد گر را ذخر اور جلیل (مکہ کے گھاس ) ہوں۔پھر آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور آپ کو ان اصحاب کے قول بتائے۔بتایا کہ حضرت ابو بکر نے یہ کہا، عامر بن فهيرة نے یہ کہا، حضرت بلال نے یہ کہا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمان کی طرف دیکھا اور یہ دعا فرمائی: اللَّهُمَّ حَبَّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ كَمَا حَبَّبْتَ إِلَيْنَامَلَّةَ أَوْ أَشَدَّ اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي صَاعِهَا وَفِي مُدهَا وَانْقُلْ وَبَاءَهَا إِلَى مَهَيْعَةً اے اللہ المدینہ کو ہمیں ایسا ہی پیارا بنادے جیسا کہ تو نے مکہ کو ہمارے لئے محبوب بنایا تھا یا اس سے بھی بڑھ کر۔اے اللہ ہمارے لئے اس کے صاع میں اور اس کے مد میں (یہ دو وزن کے پیمانے ہیں ) برکت ڈال دے اور مدینہ کو ہمارے لئے صحت مند مقام بنادے اور اس کی وباء کو منعه مقام کی طرف منتقل کر دے یعنی ہم سے دور لے جا۔(مسند احمد بن حنبل جلد 10 صفحہ 101-102 حدیث 25092 مسند عائشة مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2008ء) حضرت عامر بن فهيرة بئر معونہ کے واقعہ میں شہید ہوئے تھے۔جب وہ لوگ بئر معونہ میں قتل کئے گئے اور حضرت عَمْرو بن أُمَيَّهِ ضَمْرِنی قید کئے گئے تو عَامِر بن طفیل نے ان سے پوچھا یہ کون ہے ؟ اور اس نے