خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 522
خطبات مسرور جلد 17 522 خطبه جمعه فرموده مورخه 04 اکتوبر 2019 تکلیف نہ دیں۔وہ کسی قسم کی بد کاری کے مرتکب نہ ہوں اور کسی شرارت اور ظلم اور فساد اور فتنہ کا خیال بھی دل میں نہ لاویں۔غرض ہر قسم کے معاصی اور جرائم، ہر قسم کے گناہ جو ہیں اور جرم جو ہیں اور نا کر دنی اور نا گفتنی اور تمام نفسانی جذبات اور بے جا حرکات سے مجتنب رہیں۔ہر قسم کی برائیوں سے، نفس کے جذبات سے بچے رہیں اور خدا تعالیٰ کے پاک دل اور بے شر اور غریب مزاج بندے بن جائیں۔ایسے ہو جائیں جن کے دل پاک ہیں ، جن سے کبھی شرارت سرزد نہیں ہوتی اور ہمیشہ غریب مزاج رہتے ہیں۔عاجزی ان میں رہتی ہے اور کوئی زہریلا خمیر اُن کے وجود میں نہ رہے۔اور تمام انسانوں کی ہمدردی ان کا اصول ہو اور خدا تعالیٰ سے ڈریں اور اپنی زبانوں اور اپنے ہاتھوں اور اپنے دل کے خیالات کو ہر ایک ناپاک اور فساد انگیز طریقوں اور خیانتوں سے بچاویں اور پنج وقتہ نماز کو نہایت التزام سے قائم رکھیں اور ظلم اور تعدی اور غبن اور رشوت اور اتلاف حقوق اور بے جا طرف داری سے باز رہیں۔لوگوں کے حقوق تلف کرنے ، غلط طرف داریاں کرنی، غلط کسی کو نقصان پہنچانا اس سے باز رہو۔اور کسی بد صحبت میں نہ بیٹھیں۔بری صحبتیں جو ہیں ان سے بچیں۔نوجوانوں کو بھی یاد رکھنا چاہیے اور بچوں کے والدین کو بھی یادر کھنا چاہیے کہ دیکھیں کہ ہمارے بچے اس معاشرے میں کسی بد صحبت میں نہ بیٹھیں، پھر ویسے ہی بن جائیں گے۔اور اگر بعد میں ثابت ہو ، بعض دفعہ نہیں پتا لگتا کہ صحبت کیسی ہے فرمایا کہ اگر بعد میں ثابت ہو کہ ایک شخص جو اُن کے ساتھ آمد و رفت رکھتا ہے، بیٹھتا اٹھتا ہے، اس کے ساتھ میل ملاقات ہے وہ خدا تعالیٰ کے احکام کا پابند نہیں ہے یا حقوق عباد کی کچھ پروا نہیں کرتا یا ظالم طبع اور شریر مزاج اور بد چلن آدمی ہے تو تم پر لازم ہو گا کہ اس بدی کو اپنے درمیان سے دُور کرو، اس سے تعلق ختم کرو، جو اچھی سوسائٹی ہے، اچھی کمپنی ہے وہ ایک احمدی کی ہونی چاہیے۔فرمایا اور ایسے انسان سے پر ہیز کرو جو خطرناک ہے اور چاہیے کہ کسی مذہب اور کسی قوم اور کسی گروہ کے آدمی کو نقصان رسانی کا ارادہ مت کرو۔کسی کو نقصان نہیں پہنچانا، کسی مذہب کا آدمی ہو ، کسی قوم کا آدمی ہو، کسی گروہ کا ہو تمہارے سے کسی کو نقصان نہیں پہنچنا چاہیے۔اور ہر ایک کے لیے بچے ناصح بنو۔نصیحت کرنی ہے تو بچے ناصح بن کے، سچے نصیحت کرنے والے کی طرح نصیحت کرو یعنی تمہارا قول اور فعل ایسے ہوں کہ اس نصیحت کا بھی اثر ہو اور کسی قسم کی طرف داری نہ ہو۔فرمایا اور چاہیے کہ شریروں اور بد معاشوں اور مفسدوں اور بد چلنوں کو ہر گز تمہاری مجالس میں گزر نہ ہو اور نہ تمہارے مکانوں میں رہ سکیں کہ وہ کسی وقت تمہاری ٹھو کر کا موجب ہوں گے۔فرمایا میری جماعت میں سے ہر ایک فرد پر لازم ہو گا کہ ان تمام وصیتوں پر کار بند ہوں اور چاہیے کہ تمہاری مجلسوں میں کوئی ناپاکی اور ٹھٹھے اور ہنسی کا مشغلہ نہ ہو اور نیک دل اور پاک طبع اور پاک خیال ہو کر زمین پر چلو۔کسی پر ناجائز طریق سے حملہ نہ کرو اور جذباتِ نفس کو دبائے رکھو۔کوئی مذہبی گفتگو ہو تو نرم الفاظ میں اور مہذبانہ طریق سے گفتگو کرو۔اگر کوئی جہالت سے پیش آئے تو سلام کہہ کر ایسی مجلس سے اٹھ جاؤ۔خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ تمہیں ایک ایسی جماعت بنا دے کہ تمام دنیا کے لیے نیکی اور راست بازی کا نمونہ ٹھہر و۔