خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 521
خطبات مسرور جلد 17 521 خطبه جمعه فرموده مورخه 04 اکتوبر 2019 ہمارے دل میں ایک پیار اور محبت کے جذبات ہونے چاہئیں۔نفسانی جو شوں سے ہمیں خالی ہونا چاہیے۔اپنے ماتحتوں کے ساتھ بھی نیک سلوک کرنے والے ہم ہوں۔ہمارے ایسے سلوک ہوں جس سے ہم ایسے بن جائیں کہ ہر ایک ہمارے ان رویوں کو، ہماری نیکیوں کو پر کھنا چاہے تو پر کھ سکے۔یہ دیکھنا چاہے کہ کیا یہ معیار جو کہتے ہیں اس کے مطابق ہیں ؟ کیا ہم اس کے مطابق عمل کر رہے ہیں ؟ تو اگر یہ معیار ہیں اور دوسرا جب ہمیں پر کھتا ہے اس کے مطابق پر کھ لے کہ واقعی یہ ہیں تو تب ہی ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہم حقیقی مومن ہیں اور ہم بیعت کا حق ادا کر رہے ہیں۔بیعت جو ہم کرتے ہیں اس میں ایک شرط یہ بھی ہے کہ تکبر کو مکمل طور پر چھوڑ کر عاجزی اور مسکینی کی زندگی بسر کروں گا۔(ماخوذ از ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 564) یہ عاجزی اور مسکینی کا پیدا کرنا صرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جلسے کے انعقاد کے مقاصد میں سے ایک مقصد بیان نہیں کیا بلکہ ہم نے آپ سے جو عہد بیعت کیا ہے اس میں یہ عہد ہے کہ میں عاجزی اور مسکینی سے زندگی بسر کروں گا۔پس یہ عہد پورا کرنا ہماری ذمہ داری ہے اور یہی سچائی کی طرف پہلا قدم ہے کہ ہم نے جو عہد بیعت کیا ہے اس کو پورا کریں۔پس بیعت کی شرائط بھی پڑھتے رہنا چاہیے ، پڑھتے رہیں اور دیکھیں کہ کیا ہم سچائی کے ساتھ ان پر قائم ہیں، اس کے مطابق اپنی زندگیاں گزارنے کی کوشش کر رہے ہیں۔اگر نہیں تو دنیا کی اصلاح کا دعویٰ جو ہم کرتے ہیں وہ غلط ہے۔اس سے پہلے ہمیں اپنی اصلاح کی کوشش کرنی ہو گی ورنہ ہم ان لوگوں میں شامل ہوں گے جو کہتے کچھ اور ہیں اور کرتے کچھ اور ہیں۔اور اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کو ناپسند فرمایا ہے۔ہمارے عمل ہماری سچائی کی بجائے ہمارے جھوٹ کی تصدیق کرنے والے ہوں گے۔اور جب یہ قول و فعل کا تضاد ہو گا تو پھر خدمت دین کا دعویٰ اور اس کے لیے سرگرمی کا اظہار جو ہے وہ بھی غلط ہو جائے گا۔بے شک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سچے ہیں ، آپ کا دعوی سچا ہے، بے شک اللہ تعالیٰ نے آپ سے کامیابیوں کا وعدہ کیا ہوا ہے، بے شک اللہ تعالیٰ نے آپ کو مخلصین کی جماعت دینے کا وعدہ فرمایا ہوا ہے لیکن اگر ہماری حالتیں ایسی نہیں تو پھر ہم ان میں شامل نہیں ہوں گے جو آپ کے سلسلے کے مددگار ہوں۔پس بیعت کی برکات کے حصول کے لیے اپنی حالتوں کے جائزے لینے کی ضرورت ہے ، جو جلسے کی اغراض آپ نے بیان فرمائی ہیں ان پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔خوش قسمتی سے جلسے کے یہ تین دن ہمیں اس غور کرنے کے لیے میسر آئے ہیں۔ان دنوں میں ہر ایک اپنا جائزہ لے۔بجائے اس کے کہ اِدھر اُدھر کی باتوں میں اپنا وقت گزاریں دعا، استغفار اور درود کی طرف ہمیں متوجہ رہنا چاہیے اور تب ہی ہم اس جلسے سے حقیقی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ میری تمام جماعت اس وصیت کو توجہ سے سنے کہ وہ جو اس سلسلہ میں داخل ہو کر میرے ساتھ تعلق ارادت اور مریدی کا رکھتے ہیں اس سے غرض یہ ہے کہ تاوہ نیک چلنی اور نیک بختی اور تقوی کے اعلیٰ درجہ تک پہنچ جائیں اور کوئی فساد اور شرارت اور بد چلنی ان کے نزدیک نہ آسکے۔یہ ہے تقوی کا معیار۔کسی قسم کی بھی کوئی برائی ان میں نہ ہو۔فرمایا وہ پہنچ وقت نماز باجماعت کے پابند ہوں۔وہ جھوٹ نہ بولیں۔وہ کسی کو زبان سے ایذا نہ دیں، کوئی