خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 520
خطبات مسرور جلد 17 520 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 04 اکتوبر 2019 قائم ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرمائے گا کہ کہاں ہیں وہ لوگ جو میرے جلال اور میری عظمت کے لیے ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے اور آج جبکہ میرے سائے کے سوا کوئی سایہ نہیں ہے، قیامت کا دن ہے میں اپنے اس سایہ کرحمت میں انہیں جگہ دوں گا۔(صحیح مسلم کتاب البر باب فضل الحب في الله تعالیٰ حدیث 2566) پس جو اللہ تعالیٰ کی خاطر اس کے حکموں کی تعمیل کرتے ہوئے ایک دوسرے سے محبت کے جذبات رکھتے ہیں وہی اللہ تعالیٰ کے پیار کو جذب کرنے والے ہیں یا دوسرے لفظوں میں جو یہ نہیں کرتے وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کے مورد بھی بن سکتے ہیں۔پس یہ روح ہم میں سے ہر ایک کو اپنے اندر پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ہم یہ نعرہ لگاتے ہیں کہ محبت سب کے لیے، نفرت کسی سے نہیں تو پہلے اپنے گھروں اور اپنے معاشرے میں اس کا اظہار کرنے کی ضرورت ہے تاکہ دنیا کو حقیقی رنگ میں یہ پیغام پہنچا سکیں اور پھر یہ ایسا کام ہے جس میں ذراسی کوشش سے بغیر کسی بڑے مجاہدے کے ہم اللہ تعالیٰ کے سایہ کرحمت میں جگہ پانے والے بن سکتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف مواقع پر معاشرے کے امن و سکون کو قائم رکھنے اور محبت اور پیار اور بھائی چارے کو بڑھانے کے لیے جو نصائح فرمائی ہیں ان کے بارے میں ایک موقعے پر فرمایا کہ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے۔وہ اس پر ظلم نہیں کر تا اور نہ ہی اسے اکیلا اور تنہا چھوڑتا ہے۔فرمایا جو شخص اپنے بھائی کی حاجت روائی میں لگارہتا ہے اس کی ضروریات پورا کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی حاجات پوری کر دیتا ہے اور جس نے کسی مسلمان کی مصیبت کو دور کیا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے مصائب میں سے ایک مصیبت اس کی کم کر دے گا اور جو کسی کی ستاری کرتا ہے پردہ پوشی کرتا ہے اللہ تعالیٰ قیامت کے روز اس کی ستاری فرمائے گا۔(صحيح البخارى كتاب المظالم باب لا يظلم المسلم المسلم ولا يسلمه حديث 2442) پس اللہ تعالیٰ تو مختلف طریقوں سے ہم پر اپنی رحمت اور شفقت کی نظر ڈالتا ہے اور ہماری بخشش کے سامان کرتا ہے۔یہ انسان ہی ہے جو اپنی نااہلیوں، اناؤں اور ضروں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کو ناراض کرتارہتا ہے۔پس بڑے خوف کا مقام ہے، بڑے سوچنے کی ضرورت ہے ان دنوں میں جبکہ ہمارے جذبات، خیالات نیکی کی طرف مائل ہوئے ہوئے ہیں ، ہم اس سوچ کے ساتھ یہاں آئے ہیں کہ ایک جلسے میں شامل ہونا ہے جہاں نیکی کی باتیں سنیں گے ، اپنے جائزے لیں، اپنے جائزے لیتے ہوئے اپنی عبادتوں کے ساتھ حقوق العباد کی ادائیگی کی طرف بھی توجہ دیں، نرم دلی، آپس کی محبت اور عاجزی کی حقیقت پہچاننے کی کوشش کریں اور یہ اس لحاظ سے بھی ہم پر ضروری ہو جاتا ہے کہ ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے جو عہد بیعت باندھا ہے اس میں شرک سے پر ہیز ، نمازوں کی ادائیگی ؛ فرض نمازیں بھی اور نوافل کی ادائیگی کے ساتھ ہم نے یہ عہد بیعت بھی کیا ہے کہ ہم عمومی طور پر اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو اور خاص طور پر مسلمانوں کو اپنے نفسانی جوشوں سے کسی قسم کی تکلیف نہیں دیں گے۔صرف آپس کے مسلمانوں کے لیے ہی نہیں، جماعت کے ممبران کے لیے ہی نہیں۔ٹھیک ہے اپنے گھر سے شروع کرو، آپس میں بھی ہونا چاہیے پھر مسلمانوں کے لیے پھر عام مخلوق کے لیے بھی، ہر ایک کے لیے