خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 519
خطبات مسرور جلد 17 اس کو نفل سے پورا کر دو۔519 خطبه جمعه فرموده مورخه 04 اکتوبر 2019 (سنن ابو داؤد کتاب الصلوة باب قول النبي كل صلاة لا يتمها صاحبها تتم من تطوعه حديث 864) پس اللہ تعالیٰ نے یہاں جو میرے بندے فرمایا ہے تو اس لیے کہ یہ لوگ جو ہیں اپنی طرف سے کوشش کر کے اللہ تعالیٰ کی بندگی کرنے والے ہیں اور اس کی عبادت کا حق ادا کرنے کی کوشش کرنے والے ہیں۔لیکن پھر بھی بشری تقاضے کے تحت کمزوری ہے، بھول چوک ہو جاتی ہے، بعض حالات ایسے آ جاتے ہیں تو اس کو معاف کرنے اور اپنے بندے کی نیکیوں کے پلڑے کو زیادہ کرنے کے لیے اپنی رحمت اور مغفرت کا سلوک فرماتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے نوافل کو فرائض میں ڈال کر فرائض کو پھر پورا فرما دیا۔اب یہاں دیکھ لیں نوافل پڑھنے والے بھی وہی لوگ ہوں گے جو خالص اللہ تعالیٰ کا خوف رکھتے ہیں۔نفل تو ایسی چیز نہیں ہے جو باہر آکے پڑھی جاتی ہے۔یہ تو چھپ کر ادا کیے جاتے ہیں ، علیحد گی میں پڑھے جاتے ہیں اور یہ نیکی پھر وہی کرتا ہے جس کو اللہ کا خوف ہو گا اور یہی لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے میرے بندے کہا ہے کہ ان بندوں سے بھی غلطیاں ہو جاتی ہیں لیکن وہ غلطیاں مستقل جاری نہیں رہتیں۔ان غلطیوں کا مداوا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔پس یہ ہے اللہ تعالیٰ کی رحمت کا سلوک۔ایک طرف تو یہ بتا دیا کہ نماز کوئی معمولی چیز نہیں ہے اس کا حساب سب سے پہلے ہو گا اس لیے اس کی ادائیگی کی طرف توجہ رکھو لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا کہ اگر تقوی پر چلتے ہوئے میری بندگی اور عبادت کا حق ادا کرنے کی کوشش کر رہے ہو تو پھر نوافل جو تم ادا کرتے ہو ان کا ثواب فرائض کے برابر ہو جائے گا اور میں بخشش کی چادر میں تمہیں لے لوں گا۔پس جہاں یہ خوش خبری ہے، جہاں بخشش کی امید دلائی گئی ہے وہاں اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کرنے کے لیے نوافل کی ادائیگی کی طرف بھی توجہ دلائی گئی ہے۔پس مومن وہی ہے جو اللہ تعالیٰ کا خوف دل میں رکھتے ہوئے اس کے فضلوں کو جذب کرنے کے لیے جہاں اپنے فرائض کی طرف توجہ دے وہاں نوافل کی طرف بھی توجہ دے کہ اس کی فرائض کی کمیاں پوری ہوتی رہیں۔پس یہ وہ لوگ ہیں جو حقیقت میں اللہ تعالیٰ کا خوف رکھتے ہیں اور تقوی پر چلنے والے ہیں اور اسی تقوی کی وجہ سے باقی نیکیاں کرنے کی طرف بھی ان کی توجہ رہتی ہے۔ان کے دل ایک دوسرے کے لیے نرم ہوتے ہیں ، ایک دوسرے سے بدلے لینے کی بجائے ایک دوسرے کو معاف کرنے کی طرف توجہ رہتی ہے۔اللہ تعالیٰ کا پیار حاصل کرنے کے لیے آپس میں پیار اور محبت کا سلوک ہو تا ہے۔ان کے دلوں میں عاجزی پیدا ہوتی ہے۔ایک دوسرے کی خاطر قربانی کی روح پیدا ہوتی ہے۔پس اس لحاظ سے ہر ایک کو اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے کہ کیا ہم میں یہ باتیں ہیں کہ حقیقی عابد ہر قسم کی نیکیوں کو اپنانے کی کوشش کرتا ہے۔اگر کسی میں اپنے بھائی کے لیے محبت کے جذبات نہیں ہیں تو اس میں حقیقی تقوی نہیں ہے۔جس میں نرم دلی نہیں ہے وہ بھی اپنی فکر کرے۔جس کے گھر میں اس کے بیوی بچے اس سے تنگ ہیں وہ بھی تقوی سے خالی ہے۔جو بیویاں اپنے خاوندوں اور بچوں کے حقوق ادا نہیں کرتیں اور ناجائز مطالبات کرتی ہیں ان کے دل بھی تقوی سے خالی ہیں۔پس آپس کے تعلقات میں جو خدا تعالیٰ کی خاطر محبت اور نرمی کا سلوک کرنے والے ہیں وہی حقیقی تقوی پر