خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 518 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 518

خطبات مسرور جلد 17 518 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 04 اکتوبر 2019 سے یا اپنے شام کے بعض ذاتی پروگراموں کی وجہ سے مغرب عشاء کی نمازیں ضائع ہو جاتی ہیں۔نیند کا بہانا کر کے فجر کی نماز ضائع کر دیتے ہیں۔پس ہم میں سے ہر ایک کو اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے کیا ہم اللہ تعالیٰ کے حکم پر عمل کر رہے ہیں یا نہیں ؟ جماعت کے خاص پروگراموں اور رمضان کے مہینے میں باجماعت نمازیں پڑھ کر ہم سمجھ لیتے ہیں کہ ہم نے اللہ تعالیٰ کے حکم پر عمل کر لیا۔باقی سارا سال چاہے اس پر باقاعدہ عمل ہو یا نہ ہو فرق نہیں پڑتا لیکن سنیں اور اس بات کو دیکھیں کہ نماز کی اہمیت بیان فرماتے ہوئے اللہ تعالیٰ اور اس کار سول کیا فرماتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسْجِدَ اللهِ مَنْ آمَنَ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ - (التوبة: 18 ) کہ اللہ تعالیٰ کی مساجد تو وہی آباد کرتے ہیں جو اللہ پر ایمان لائے اور یوم آخرت پر ایمان لائے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جب تم کسی شخص کو مسجد میں عبادت کے لیے آتے جاتے دیکھو تو تم اس کے مومن ہونے کی گواہی دو اس لیے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اللہ کی مساجد کو وہی لوگ آباد کرتے ہیں جو خدا اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں۔(سنن ابن ماجه كتاب المساجد و الجماعة باب لزوم المساجد وانتظار الصلوة حديث 802) ویسے کہنے کو تو ہم سب اپنے آپ کو ایمان لانے والا کہتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے نزدیک مومن وہ ہیں جو اللہ کے گھر کو آباد رکھتے ہیں اس لیے کہ اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان ہے۔یہاں یہ بھی واضح ہو گیا کہ صرف مسجد آنا ہی کافی نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان کے ساتھ آنا ضروری ہے اور جو یہ سوچ رکھنے والا ہو گا اسے اللہ تعالیٰ کا خوف بھی ہو گا، وہ مسجدوں میں آکر فتنہ پر دازیاں نہیں کرے گا، وہ ان نمازیوں میں شامل نہیں ہو گا جن کی نمازیں ان کے لیے ہلاکت کا باعث ہوتی ہیں۔اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی بجائے ایسے نمازی پھر اللہ تعالیٰ کی ناراضگی مول لینے والے ہو جاتے ہیں۔نہیں بلکہ یہ لوگ حقیقی تقوی رکھتے ہیں۔جو یہ سوچ رکھتے ہوں کہ یوم آخرت کا خیال رکھنا ہے اور اللہ تعالیٰ کا خوف دل میں رکھنا ہے۔ان کے دل نرم ہوتے ہیں۔ان میں محبت اور پیار اور بھائی چارہ ہوتا ہے۔ان میں عاجزی ہوتی ہے۔وہ سچائی پر قائم ہوتے ہیں۔وہ اسلام کی پرامن تعلیم کی تبلیغ کرتے ہیں۔ان کی مسجدیں خوف کی جگہ نہیں ہو تیں اور نہ ہی فتنے کی جگہ ہوتی ہیں۔اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ صرف اس مسجد میں نماز کے لیے کھڑے ہو جس کی بنیاد تقوی پر ہے نہ کہ فتنہ و فساد کی غرض سے بنائی گئی مسجد ہے۔پس جو تقوی پر قائم رہتے ہوئے مسجدوں کو آباد کرتے ہیں وہ حقوق اللہ کی ادائیگی بھی کرتے ہیں اور حقوق العباد کی بھی ادا ئیگی کرتے ہیں۔ایسے ہی لوگوں کو خوش خبری دیتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ انسان سے پہلا حساب جو لے گا اس کے بارے میں فرشتوں کو فرمائے گا کہ میرے بندے کی نماز کو دیکھو، پہلی بات تو یہ دیکھو کہ بندہ نماز پڑھتا ہے کہ نہیں۔جن کی نمازیں مکمل ہوں گی ان کے نامہ اعمال میں مکمل نمازیں ہی لکھی جائیں گی وہ تو حساب صاف ہو گیا لیکن آگے پھر فرماتے ہیں کہ جن کی فرض نمازوں میں کمی رہ جائے گی ان کے بارے میں کہے گا کہ اس کی نفلی عبادت دیکھو وہ کیا تھی۔اگر فرض میں کوئی کمی رہ گئی ہے تو