خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 517
خطبات مسرور جلد 17 517 خطبه جمعه فرموده مورخه 04 اکتوبر 2019 پہنچانے کی کوشش کریں گے ، ان کو بتائیں گے کہ حقیقی اسلام کیا ہے۔اگر ہم اپنے اس عہد کو پورا کرنے والے بن گئے ، ہماری زندگیاں اس کے مطابق گزرنے لگ گئیں تو یقیناً ہم نے عہد بیعت پورا کر لیا۔پس آئیں آج ہم ان باتوں کے حصول کے لیے اپنا لائحہ عمل بنائیں۔آخرت کی فکر اور اللہ تعالیٰ کا خوف رکھنے والا سب سے پہلے اپنی عبادت کی حفاظت کی طرف توجہ کرتا ہے، اس طرف دیکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میری زندگی کا مقصد کیار کھا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذاريات: 57) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کا ترجمہ اس طرح فرمایا ہے کہ یعنی میں نے جن اور انسان کو اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ مجھے پہچانیں اور میری پرستش کریں۔فرمایا پس اس آیت کی رو سے اصل مدعا انسان کی زندگی کا خدا تعالیٰ کی پرستش اور خدا تعالیٰ کی معرفت اور خدا تعالیٰ کے لیے ہو جانا ہے۔فرمایا یہ تو ظاہر ہے کہ انسان کو تو یہ مرتبہ حاصل نہیں ہے کہ اپنی زندگی کا مدعا اپنے اختیار سے آپ مقرر کرے۔گو انسان مقرر کرتا ہے لیکن اس کو حاصل نہیں ہے کیونکہ انسان نہ ہی اپنی مرضی سے آتا ہے اور نہ ہی اپنی مرضی سے واپس جائے گا بلکہ وہ ایک مخلوق ہے اور جس نے پیدا کیا اور تمام حیوانات کی نسبت عمدہ اور اعلیٰ قومی اس کو عنایت کیسے اس نے اس کی زندگی کا ایک مدعا ٹھہرایا ہے، ایک مقصد ٹھہرایا ہے خواہ کوئی انسان اس مدعا کو سمجھے یا نہ سمجھے مگر آپ فرماتے ہیں کہ انسان کی پیدائش کا مد عابلا شبہ خدا کی پرستش اور خدا کی معرفت اور خد اتعالیٰ میں فانی ہو جانا ہی ہے۔(ماخوذ از اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 414) پس اس مقصد کو پورا کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ہمیں جو عبادت اور پرستش کا طریق سکھایا ہے وہ کیا ہے ؟ وہ نماز کا قیام ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ انَّ الصَّلوةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتبًا مَّوْقُوتًا۔(النساء:104) کہ یقیناً نماز مومنوں پر وقت کی پابندی کے ساتھ فرض ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ میں نماز موقوتہ کے مسئلے کو بہت عزیز رکھتا ہوں۔(ماخوذ از ملفوظات جلد 3 صفحہ 63) یہ مسئلہ ایسا ہے جو مجھے بہت عزیز ہے اور بہت پیارا ہے۔یہ مسئلہ یعنی وقت مقررہ پر نماز پڑھا جاناضروری ہے۔لیکن اس زمانے میں ہم دیکھتے ہیں کہ ذرا ذراسی بات پر نمازوں کی وقت پر ادائیگی اور لا پرواہی اکثر لوگ برت جاتے ہیں بلکہ وقتِ مقررہ تو الگ رہا بعض نمازیں ہی نہیں پڑھتے۔پانچ کی بجائے تین چار نماز میں پڑھ لیں گے ، ستی د کھا جاتے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ نے نمازوں کی حفاظت کا مومنوں کو ارشاد فرمایا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے حفظوا عَلَى الصَّلَوتِ وَالصَّلوةِ الْوُسْطى۔(البقرة: 239) کہ نمازوں کا اور خصوصاً در میانی نماز کا پورا خیال رکھو لیکن کاروباروں اور ملازمتوں کی وجہ سے ہم میں سے بعض ظہر عصر کی نماز ضائع کر دیتے ہیں، ٹی وی پروگراموں کی وجہ