خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 516 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 516

خطبات مسرور جلد 17 516 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 04 اکتوبر 2019 مکمل اطاعت کرتے ہوئے اور تقوی پر قائم رہتے ہوئے اس کے اور اس کے بندوں کے حقوق ادا کر تار ہا تو وہ مجھ سے راضی ہو گا۔پس یہ سوچ ہے اور اس کے مطابق عمل ہے جو یقینا اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق اس کے انعاموں اور فضلوں کا حاصل کرنے والا بنائے گا اور یہی لوگ ہیں جو تقوی پر چلنے والے کہلاتے ہیں جو یہ سوچ رکھتے ہیں یعنی وہ جو اللہ تعالیٰ کے تمام حکموں پر عمل کرنے والے ہیں، جن کے دل نرم ہوں گے اور ہوتے ہیں کیونکہ ہر لمحہ ان کے دل میں خدا ہوتا ہے۔یہی ہیں جن کے ایک دوسرے کے لیے خدا تعالیٰ کی خاطر محبت کے جذبات ہوتے ہیں یعنی ان کی محبت اور بھائی چارہ ذاتی اغراض کے لیے نہیں ہو تا بلکہ صرف اور صرف خدا تعالیٰ کے لیے ہو تا ہے۔اسی طرح تقوی پر چلنے والے ہیں جن میں عاجزی پید اہوتی ہے۔عاجزی کے اظہار صرف اپنے مرتبے اور دولت کے لحاظ سے بڑے سے نہیں ہوتے ، ان ہی کے سامنے عاجزی نہیں دکھاتے جو بڑے ہیں ، رتبے میں بڑے ہیں یاد نیادار ہیں بلکہ غریبوں اور مسکینوں سے بھی عاجزی کا اظہار کرتے ہیں اور یہی لوگ ہیں جو سچائی پر ہر وقت قائم ہیں اور سمجھتے ہیں کہ قولِ سدید ہی خدا تعالیٰ تک پہنچاتا ہے اور جھوٹ جو ہے وہ شرک کی طرف لے کے جاتا ہے۔اور جب آخرت کی فکر ہے اور خد اتعالیٰ کا خوف ہے اور تقوی کی حقیقت جانتے ہیں تو پھر ایک شخص مومن کہلا کر پھر جھوٹ کس طرح بول سکتا ہے اور ان باتوں کے حاصل کرنے والے اور نیکیوں کی روح کو سمجھنے والے ہی ہیں جو دین کی خدمت میں بھی حقیقت میں سر گرم ہوتے ہیں ورنہ تو یہ جو خدمت ہے بظاہر یہ بھی کچھ مفادات کے حصول کے لیے ہو جاتی ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ مسلمانوں میں سینکڑوں علماء ہیں جو دین کے نام پر بظاہر بڑے سر گرم ہیں اور اندر سے دین کے نام پر ظلم کر رہے ہیں، جن میں تقوی کی کمی ہے، جن میں خدا کا خوف نظر نہیں آتا، جن کو آخرت سے زیادہ دنیا کے مفادات عزیز ہیں اور نام خدا اور آخرت کا لیتے ہیں۔پس ان باتوں کی روح کی ضرورت ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہم میں پیدا کرنا چاہتے ہیں کہ ظاہری خول نہ ہو بلکہ روح ہو ، مغز ہو۔ان باتوں کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیں اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے کہ کیا ہم اس نیت سے جلسے میں شامل ہو رہے ہیں اور اپنے اندر ان مقاصد کو حاصل کرنے کی ایک تڑپ رکھتے ہیں۔اگر بشری کمزوریوں کی وجہ سے ماضی میں ہم سے ان باتوں کے حصول کے لیے غلطیاں اور کو تاہیاں ہو گئی ہیں تو آئندہ ہم ایک نئے عزم کے ساتھ ان نیکیوں کو پیدا کرنے اور انہیں قائم رکھنے کی حتی المقدور کوشش کرنے کے لیے تیار ہیں اور کریں گے ؟ آج ہم یہ عہد کرتے ہیں کہ ہم دنیا سے زیادہ آخرت کی فکر کرنے والے ہوں گے ، ہم خدا کا خوف اور اس کی خشیت اور اس کی محبت کو ہر چیز پر فوقیت دیں گے، ہم تقوی کی باریک راہوں پر چلنے کی حتی المقدور کوشش کریں گے ، ہم اپنے دلوں میں دوسروں کے لیے نرمی پیدا کریں گے، ہم آپس میں محبت اور بھائی چارے کو اس قدر بڑھائیں گے کہ یہ محبت اور بھائی چارہ ایک مثال بن جائے، عاجزی اور تواضع میں ہم بڑھنے والے بنیں گے، سچائی اور قولِ سدید ہماری ایک خصوصیت بن جائے گا کہ ہر شخص کہے کہ احمدی ہیں جو ہمیشہ سچ پر قائم رہتے ہیں، سچ بولتے ہیں اور اس کے لیے بڑے سے بڑا نقصان بھی برداشت کر لیتے ہیں۔دینی خدمات کے لیے ایسے سر گرم ہوں گے جو ایک مثال ہو گا اور اس کے لیے پہلے سے بڑھ کر خدا تعالیٰ کے دین کے پیغام کو اپنے ماحول کے ہر شخص تک