خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 36
خطبات مسرور جلد 17 36 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 جنوری 2019 آپ کی یہ پیشگوئی کوئی سولہ سترہ سال کے بعد جا کر لفظ بہ لفظ پوری ہوئی۔سراقہ مسلمان ہو کر مدینہ آگیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد پہلے حضرت ابو بکر پھر حضرت عمرؓ خلیفہ ہوئے۔اسلام کی بڑھتی ہوئی شان کو دیکھ کر ایرانیوں نے مسلمانوں پر حملے شروع کر دئے اور بجائے اسلام کو کچلنے کے خود اسلام کے مقابلے میں کچلے گئے۔ایرانیوں نے حملے شروع کئے تھے۔کسریٰ کا دار الامارة اسلامی فوجوں کے گھوڑوں کی ٹاپوں سے پامال ہوا اور ایران کے خزانے مسلمانوں کے قبضے میں آئے۔جو مال اس ایرانی حکومت کا اسلامی فوجوں کے قبضے میں آیا اس میں وہ کڑے بھی تھے جو کسری ایرانی دستور کے مطابق تخت پر بیٹھتے وقت پہنا کرتا تھا۔سراقہ مسلمان ہونے کے بعد اپنے اس واقعہ کو جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے وقت اسے پیش آیا تھا مسلمانوں کو نہایت فخر کے ساتھ سنایا کرتا تھا اور مسلمان اس بات سے آگاہ تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مخاطب کر کے فرمایا تھا کہ سراقہ ! اس وقت تیرا کیا حال ہو گا جب تیرے ہاتھ میں کسری کے کنگن ہوں گے۔حضرت عمرؓ کے سامنے جب اموال غنیمت لا کر رکھے گئے اور ان میں انہوں نے کسریٰ کے کنگن دیکھے تو سب نقشہ حضرت عمرؓ کے سامنے ، آپ کی آنکھوں کے سامنے آگیا۔وہ کمزوری اور ضعف کا وقت جب خدا کے رسول کو اپنا وطن چھوڑ کر مدینہ آنا پڑا تھا، وہ سراقہ اور دوسرے آدمیوں کا آپ کے پیچھے اس لئے گھوڑے دوڑانا کہ آپ کو مار کر یازندہ کسی صورت میں بھی مکہ والوں تک پہنچا دیں تو وہ سو اونٹوں کے مالک ہو جائیں گے اور اس وقت آپ کا سراقہ سے کہنا کہ سُراقہ ! اس وقت تیرا کیا حال ہو گا جب تیرے ہاتھوں میں کسری کے کنگن ہوں گے۔کتنی بڑی پیشگوئی تھی۔کتنا مصفی غیب تھا۔کتنی صاف غیب کی خبر تھی۔حضرت عمر نے اپنے سامنے کسری کے کنگن دیکھے تو خدا کی قدرت ان کی آنکھوں کے سامنے پھر گئی۔انہوں نے کہا سراقہ کو بلاؤ۔سراقہ بلائے گئے تو حضرت عمرؓ نے انہیں حکم دیا کہ وہ کسری کے کنگن اپنے ہاتھوں میں پہنیں۔سراقہ نے کہا۔اے خدا کے رسول کے خلیفہ !سونا پہنا تو مسلمانوں کے لئے منع ہے۔حضرت عمرؓ نے فرمایا ہاں منع ہے۔ٹھیک ہے مردوں کے لئے سونا پہننا منع ہے مگر ان موقعوں کے لئے نہیں۔یہ وہ موقع نہیں ہے جہاں منع ہو۔اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تمہارے ہاتھ میں سونے کے کنگن دکھائے تھے۔یا تو تم یہ کنگن پہنو گے یا میں تمہیں سزا دوں گا کیونکہ اب تو یہ پیشگوئی پوری ہوئی ہے اور اس کا باقی حصہ بھی تمہیں پورا کرناہو گا۔سراقہ کا اعتراض تو محض شریعت کے مسئلے کی وجہ سے تھاور نہ وہ خود بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کو پورا ہوتے دیکھنے کا خواہش مند تھا۔سراقہ نے وہ کنگن اپنے ہاتھ میں پہن لئے اور مسلمانوں نے اس عظیم الشان پیشگوئی کو پورا ہوتے ہوئے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔(ماخوذ از دیباچہ تفسیر القرآن ، انوار العلوم جلد 20 صفحہ 222، 225 226) بعض کتب کے مطابق سراقہ بن مالک کو کسری کے کنگن پہنائے جانے والے الفاظ آپ نے ہجرت کے موقع پر نہیں فرمائے تھے بلکہ جس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حسین اور طائف سے واپس تشریف لارہے تھے تو جغرانہ کے مقام پر فرمائے۔(بخارى بشرح الكرماني جزء 14 صفحه 178 كتاب بدء الخلق باب علامات النبوة في الاسلام حديث 3384 مطبوعه دار احياء التراث العربي بيروت 1981ء)