خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 509
خطبات مسرور جلد 17 509 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 ستمبر 2019 ہے تو انہیں دور کرنے کی کوشش کریں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ جلسے کے فوائد بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ " حتی الوسع تمام دوستوں کو محض اللہ ربانی باتوں کے سننے کے لیے اور دعا میں شریک ہونے کے لیے اس تاریخ پر آ جانا چاہیے " اور فرمایا " اور اس جلسہ میں ایسے حقائق اور معارف کے سنانے کا شغل رہے گاجو ایمان اور یقین اور معرفت کو ترقی دینے کے لیے ضروری ہیں۔" ( آسمانی فیصلہ ، روحانی خزائن جلد 4 صفحہ 351-352) پس جلسے کا مقصد ایمان اور یقین میں ترقی ہے ، معرفت میں بڑھنا ہے۔آپ نے ایک موقعے پر یہ بھی فرمایا کہ یہ دنیاوی میلوں کی طرح کامیلہ نہیں ہے۔(ماخوذ از شهادة القرآن، روحانی خزائن جلد 6 صفحه 395) کہ ہم اکٹھے ہو گئے اور شور و غل کر دیا اور جمع ہو گئے اور اپنی تعداد ظاہر کر دی۔یہ تو مقصد نہیں ہے۔پس جلسے پر آنے والے ہر شخص کو ، مرد کو بھی، عورت کو بھی، جو ان کو بھی، بوڑھے کو بھی اس طرف توجہ رکھنی چاہیے کہ اس کا ایمان اور یقین اور معرفت بڑھے تاکہ خدا اور اس کے رسول کی محبت میں اضافہ ہو۔ایمان اور یقین اور معرفت بڑھتی ہے تب ہی اللہ اور اس کے رسول کی محبت میں اضافہ ہوتا ہے۔اگر اللہ تعالیٰ کے مقام اور رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام کی پہچان ہی ہمیں نہیں ہے، اگر اللہ تعالیٰ کی ہستی کا ہمیں یقین ہی نہیں ہے تو معرفت کس طرح، ترقی کس طرح ہو سکتی ہے۔اس معرفت میں بڑھنے سے ہی ایمان میں ترقی ہو گی۔پس ہمیں یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ ہم صرف رونق کے لیے ایک جگہ جمع ہو گئے ہیں اور ادھر اُدھر کی باتیں کرنے میں وقت گزار کر ہم چلے جائیں۔اگر یہ سوچ ہے تو جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا کہ پھر جلسے پر آنا بے فائدہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نیکیوں کے بجالانے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے جن میں وہ نیکیاں بھی ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حقوق ادا کرنے کے لیے ہیں اور وہ نیکیاں بھی ہیں جو اللہ تعالیٰ کے بندوں کے حقوق ادا کرنے کے لیے ہیں فرماتے ہیں کہ " نیکی کو محض اس لیے کرنا چاہیے کہ خدا تعالیٰ خوش ہو اور اس کی رضا حاصل ہو اور اس کے حکم کی تعمیل ہو قطع نظر اس کے کہ اس پر ثواب ہو یا نہ ہو۔" پس یہ ہے حقیقی محبت کا فلسفہ کہ اللہ تعالیٰ سے محبت کا تقاضا ہے کہ ہم اس کے حکموں پر عمل کریں جس میں عبادتیں بھی شامل ہیں اور اللہ تعالیٰ کے بندوں کے حقوق بھی شامل ہیں اور ان حکموں پر عمل اس لیے نہیں کرنا کہ اس کے بدلے میں خدا تعالیٰ ہمیں اجر دے گا، کوئی ثواب ہو گا۔ہاں اللہ تعالیٰ کسی نیک عمل کو بغیر اجر کے نہیں جانے دیتا، ضرور اجر دیتا ہے۔حقیقی ایمان کا تقاضا یہ ہے جیسا کہ آپ نے فرمایا کہ نیکی صرف اس لیے نہیں کرنی کہ ہمیں کچھ ملے بلکہ اس لیے کرنی ہے کہ ہمارے خدا کا حکم ہے کہ یہ نیکیاں کرو۔