خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 510
خطبات مسرور جلد 17 510 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 ستمبر 2019 آپ فرماتے ہیں " ایمان تب ہی کامل ہوتا ہے جبکہ یہ وسوسہ اور وہم در میان سے اٹھ جاوے۔" اجر ملے گا کہ نہیں ملے گا اس قسم کی سوچوں میں نہ پڑ جاؤ۔اگر یہ سوچیں ہیں تو ایمان کامل نہیں ہو سکتا۔فرمایا کہ اگر چہ یہ سچ ہے کہ خدا تعالیٰ کسی کی نیکی کو ضائع نہیں کرتا۔اِنَّ اللهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ (التوبه : 120) " کہ اللہ تعالیٰ محسنوں کا اجر کبھی ضائع نہیں کرتا۔فرمایا اگر نیکی کرنے والے کو اجر مد نظر نہیں رکھنا چاہیئے۔" ( ملفوظات جلد 2 صفحہ 371-372) پس حقیقی نیکی یہی ہے کہ بغیر کسی لالچ کے یا انعام کے کی جائے اور اس اصول کو سامنے رکھ کر ہم بندوں سے بھی حسن سلوک کریں، ایک دوسرے کے حق ادا کرنے کی کوشش کریں اور اس لیے کریں کہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ ایک دوسرے سے حسن سلوک کرو۔رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے، آپ کی سنت ہے ، آپ کے ارشادات ہیں کہ ایک دوسرے کے حق ادا کرنے کی کوشش کرو اور اعلیٰ اخلاق دکھاؤ تو چاہے بندوں سے اس کا بدلہ ملے یا نہ ملے، اللہ تعالیٰ ضرور اس نیکی کا بدلہ دیتا ہے۔پس جب ہمارا خدا ایسا سلوک ہم سے کرتا ہے تو کس قدر بڑھ کر ہماری یہ ذمے داری بنتی ہے کہ اس کی رضا کے لیے ہم ان تمام باتوں پر عمل کریں جن کے کرنے کا ہمیں حکم دیا گیا ہے اور اُن تمام برائیوں سے بچیں جن سے بچنے کا ہمیں اس نے ہمیں حکم دیا ہے۔یہاں آکر ، ان ملکوں میں آکر ، ترقی یافتہ ملکوں میں آکر ہمیں اپنی حالتوں اور آزادی کے نام پر، ہر قسم کی لغویات میں پڑنے والے ماحول میں آکر ہمیں اپنی حالتوں پر نظر رکھنے کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔بعض دفعہ کشائش نیکیوں کے کرنے میں روک بن جاتی ہے۔حالات بہتر ہوتے ہیں ، آدمی اپنے ماضی کو بھول جاتا ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ فلاں دنیاوی کام اگر ہم نے نہ کیا تو ہمیں نقصان ہو جائے گا لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ رزق دینے والا میں ہوں۔پس یہ بات عموماً د نیا دار میں دیکھنے میں آتی ہے کہ وہ اس طرف توجہ دیتا ہے کہ نقصان نہ مجھے ہو جائے اور اللہ کے حق ادا نہیں کرتا اور اس بات میں بد قسمتی سے ہم میں سے بھی بعض لوگ شامل ہیں کہ اپنی نمازوں کو اپنے کاموں کے لیے قربان کر دیتے ہیں۔نماز کا وقت آیا، دوسری طرف کام ہے تو نماز چھوڑ دی یا نماز بعض دفعہ بعد میں جمع کر کے پڑھ لی یا بعض دفعہ پڑھتے ہی نہیں، بھول جاتے ہیں لیکن دنیاوی کام نہیں چھوڑتے تو اس سے بچنے کی ہمیں کوشش کرنی چاہیے۔یا پھر ایسی جلدی جلدی نمازیں پڑھتے ہیں کہ جس طرح ایک فرض ہے جو گلے سے اتارنا ہے جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا کہ یہ اللہ تعالیٰ سے محبت نہیں ہے، یہ تو اس دنیا سے محبت کا اظہار ہے۔پس اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت کا حق ادا کرنا ہے تو اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حق ادا کر نا ہو گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس طرف ہمیں توجہ دلائی کہ اس حقیقت کو سمجھو کہ عبادت اللہ تعالیٰ کی محبت ذاتی سے رنگین ہو کر کی جائے۔یہ اصل چیز ہے۔اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور فرض سمجھ کے نہ سر سے ٹالو بلکہ فرض میں محبت ذاتی ہو جائے اور اس سے رنگین ہو کر یہ عبادت کی جائے اور جب ذاتی محبت سے عبادت ہو گی پھر دنیاوی غرضیں سب ختم (ماخوذ از ملفوظات جلد 5 صفحہ 107)