خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 508 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 508

خطبات مسرور جلد 17 508 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 ستمبر 2019 فرمایا تم یاد رکھو کہ قرآن شریف اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کی پیروی اور نماز روزہ وغیرہ جو مسنون طریقے ہیں ان کے سوا خدا کے فضل اور برکات کے دروازے کھولنے کی اور کوئی کنجی ہے ہی نہیں۔یہی ایک راستہ ہے کوئی اور دوسرا راستہ نہیں۔پس ان برکات کو حاصل کرنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور اس محبت کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکموں پر چلنا بھی ضروری ہے۔اگر یہ نہیں تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے واضح فرما دیا کہ پھر میری بیعت بھی بے فائدہ ہے۔تمہارا یہاں جلسوں پر جمع ہونا بھی بے فائدہ ہے۔آپ علیہ السلام نے فرمایا میں تو اللہ تعالیٰ کے اس محبوب کا عاشق ہوں۔پس اگر تم میری بیعت میں رہنا چاہتے ہو تو لازما تمہیں بھی میرے محبوب سے محبت کرنی ہو گی۔پھر فرمایا اپنے اندر حالتِ انقطاع پیدا کر و یعنی ایسی حالت پیدا کر وجو دنیا کے لہو ولعب اور چکا چوند سے تمہیں علیحدہ کر دے۔تمہارا ہر عمل اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کے تابع ہو جائے۔یقینا د نیا کمانا اور دنیا کے کام اور کاروبار کرنا یہ منع نہیں ہے، خدا تعالیٰ نے ہی ان کا حکم دیا ہے۔صحابه رضوان اللہ علیہم یہ کام کیا کرتے تھے ، وہ بھی کاروبار کرتے تھے ، تجارتیں کرتے تھے، ان کے بڑے بڑے کاروبار تھے۔وہ بھی لاکھوں اور کروڑوں کے کاروبار کرتے تھے اور لین دین کرتے تھے اور لاکھوں اور کروڑوں کی جائیداد کے مالک تھے لیکن اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی محبت ان پر غالب تھی اور وہ ہر وقت اس فکر میں رہتے تھے کہ ہم نے اللہ تعالیٰ کی عبادت کے حق بھی ادا کرنے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکموں کی پیروی بھی کرنی ہے۔انہیں یہ فکر ہوتی تھی کہ ہم سے کوئی ایسا فعل سرزد نہ ہو جائے جس سے ہمارا محبوب ہم سے ناراض ہو۔آج کل میں خطبات میں صحابہ کا ذکر کرتا ہوں۔بہت سارے صحابہ کی مثالیں ملتی ہیں کیسی ان کی عبادتیں تھیں ، کیسا ان کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا معیار تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کس محبت کے ان کے جذبات تھے۔پس انہیں یہ فکر ہوتی تھی کہ ہمارے سے ایسا کوئی فعل سرزد نہ ہو جائے جو ہمارے محبوب کو ہم سے ناراض کر دے۔پس ہمارے ذہنوں میں بھی یہ بات رہنی چاہیے کہ تمام تر دنیاوی مصروفیات کے باوجود ہم نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے محبت میں کمی نہیں آنے دینی۔ان شاء اللہ۔اور اس کے لیے حتی المقدور اللہ تعالیٰ اور کے رسول کے حکموں پر عمل کرنے کی کوشش کرنی ہے اور اپنی حالتوں کو بہتر کرنے کے لیے اور جلسے کے روحانی ماحول سے فیض اٹھانے کے لیے اور اپنی عملی حالتوں میں بہتری لانے کے لیے ہی ہم ان تین دنوں کے لیے جمع ہوئے ہیں۔پس یہ ہمیشہ خیال رکھنا چاہیے اور یہی ہماری سوچ ہونی چاہیے کہ ہمارے یہاں تین دن جمع ہونے کا مقصد کیا ہے۔یہی کہ اس روحانی ماحول سے فیض اٹھائیں ، اپنی عملی حالتوں میں بہتری لانے کی کوشش کریں اور اپنی برائیوں کو دور کریں، ان دنوں میں عبادتوں کے ساتھ ساتھ ذکر الہی اور استغفار کی طرف ہم توجہ دیں۔اگر ہماری یہ سوچ نہیں تو ہمارا جلسے پر آنا فضول ہے۔عقل مندی کا تقاضا تو یہی ہے کہ ان تین دنوں کو ایک ٹریننگ کیمپ کے طور پر سمجھا جائے اور ہماری عملی حالتوں میں جو کمیاں ہو گئی ہیں اور ہو جاتی ہیں جب انسان ایک ماحول سے باہر نکلتا