خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 507
507 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 27 ستمبر 2019 خطبات مسرور جلد 17 ہو۔پس یہ جلسے اس لیے منعقد کیے جاتے ہیں تا کہ بار بار ہمیں اس بات کی یاد دہانی ہوتی رہے کہ ہماری بیعت کا مقصد کیا ہے۔یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے کہ دنیا کی محبت بالکل نکل جائے اور اللہ اور اس کے رسول کی محبت اس پر غالب آ جائے۔اس کے لیے بڑی جدوجہد کی ضرورت ہے۔اور جب ہم نے عہد بیعت کیا ہے تو یہ جد وجہد کرنی چاہیے اور کرنی پڑے گی۔ہمیں اپنے دنیاوی کاروبار اپنی عبادتوں کے لیے قربان کرنے پڑیں گے۔دنیاوی مصروفیات اللہ تعالیٰ کے حق ادا کرنے کے لیے قربان کرنی پڑیں گی۔جو چیز ہمیں اللہ تعالیٰ کے قرب سے روکتی ہے اس سے بچنا ہو گا۔اگر ہماری ملازمتیں ، ہماری تجار تیں اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرنے سے روکتی ہیں تو ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت میں رہنے کے لیے ان برائیوں سے اپنے آپ کو بچانا ہو گا، ان روکوں کو دُور کرنا ہو گا۔اسی طرح اگر ہماری انائیں ، ہماری نام نہاد دنیاوی عزتیں اور شہر تیں، ہماری خود غرضانہ سوچیں اور عمل حقوق العباد ادا کرنے سے روک رہی ہیں تو یہ بھی اللہ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی ہے۔حقوق العباد ادا کرنے کا بھی اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا ہے اور یہ نافرمانی کر کے ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت میں رہنے کے مقصد کو پورا نہیں کر رہے۔پھر جس بات کی طرف آپ نے توجہ دلائی ہے وہ ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت۔آپ نے واضح فرمایا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت تمام انسانوں سے محبت سے زیادہ ہونی چاہیے ، ان سب پر حاوی ہونی چاہیے کیونکہ خدا تعالیٰ تک اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے ہی پہنچا جا سکتا ہے۔آپ کے حکموں پر عمل کر کے اور آپ کی سنت پر چل کر ہی خدا تعالیٰ تک پہنچا جا سکتا ہے۔دعاؤں کی قبولیت اور انجام بخیر ہونے کا وسیلہ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ ": دیکھو اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ ( ال عمران:32) ا یعنی کہہ دے اے لوگو! اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت رکھتے ہو تو میری اتباع کرو تو اس صورت میں وہ بھی تم سے محبت کرے گا یعنی اللہ تعالیٰ بھی محبت کرے گا اُس وقت جب تم رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرو گے، ان کی سنت پر عمل کرو گے، ان کے حکموں کو بجالاؤ گے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ " خدا کے محبوب بننے کے واسطے صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی ہی ایک راہ ہے اور کوئی دوسری راہ نہیں کہ تم کو خدا سے ملادے۔انسان کا مد عاصرف اس ایک واحد لاشریک خدا کی تلاش ہونا چاہیے۔" یہی مقصد ہونا چاہیے کہ ہم نے صرف واحد اور لاشریک خدا کی تلاش کرنی ہے، کسی اور چیز کی تلاش نہیں کرنی، کسی اور کو اللہ کے مقابلے پر کھڑا نہیں کرنا۔فرمایا " شرک اور بدعت سے اجتناب کرنا چاہیے رسوم کا تابع اور ہو اوہوس کا مطیع نہ بننا چاہیے۔" فرمایا دیکھو میں پھر کہتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی راہ کے سوا اور کسی طرح انسان کامیاب نہیں ہو سکتا۔" آپ فرماتے ہیں کہ "ہمار ا صرف ایک ہی رسول ہے اور صرف ایک ہی قرآن شریف اس رسول پر نازل ہوا ہے جس کی تابعداری سے ہم خدا کو پاسکتے ہیں۔" ( ملفوظات جلد 5 صفحہ 124-125)