خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 506 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 506

خطبات مسرور جلد 17 506 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 ستمبر 2019 بھی روکا جاتا ہے بلکہ گھروں میں بھی قانون کی رُو سے ہم نمازیں نہیں پڑھ سکتے۔عید قربان پر ہم جانوروں کی قربانی نہیں کر سکتے بلکہ قانون اس کی اجازت نہیں دیتا۔اس پر بھی مقدمے ہو جاتے ہیں اور اس لیے بھی کہ نام نہاد علماء اور ان کے چیلوں کے جذبات مجروح ہوتے ہیں۔پس ایسے حالات میں بہت سے احمد کی پاکستان سے ہجرت کر کے دوسرے ممالک جہاں مذہبی آزادی ہے چلے جاتے ہیں، ہجرت کر گئے ہیں۔آپ میں سے بھی جو یہاں ہجرت کر کے آئے ہیں انہیں یہاں مذہبی آزادی بھی ہے اور مالی اور معاشی لحاظ سے بھی اپنی حالتوں کو بہتر کرنے کے مواقع بھی ملے ہیں۔پس ہر احمدی کو جو ان پابندیوں سے آزاد ہو کر زندگی گزار رہا ہے جو ان کو پاکستان میں تھیں خاص طور پر اس وجہ سے پہلے سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کا شکر گزار ہونا چاہیے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت میں آنے کا حق ادا کرنے کی بھر پور کوشش کرنی چاہیے۔اپنی روحانی، علمی اور اخلاقی حالت کو بہتر کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔اس بات پر ہی خوش نہیں ہو جانا چاہیے کہ ہم آزاد ہیں اور کوئی ایسی پابندی ہم پر نہیں ہے جو ہمیں اپنے مذہب پر عمل کرنے سے روکے۔ہے؟ اگر ہمارے عمل اللہ تعالیٰ کے حکموں کے مطابق نہیں، اگر ہم نے اپنے اندر پاک تبدیلیاں پہلے سے بڑھ کر پیدا کرنے کی کوشش نہیں کی اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی محبت کے اظہار پہلے سے بڑھ کر ہم سے ظاہر نہیں ہو رہے تو اس آزادی کا کیا فائدہ ہے، ان جلسوں میں شامل ہونے کا کیا فائدہ؟ یہ مساجد کی تعمیر کرنے کا کیا فائدہ ہے؟ حقیقی فائدہ تو ہمیں اس آزادی کا تب ہی ہو گا جب ہم بیعت کا حق ادا کریں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان جلسوں کے انعقاد کا اعلان بھی اللہ تعالیٰ سے اذن پا کر فرمایا تھا اور اس لیے فرمایا تھا کہ ان جلسوں کی وجہ سے ہم میں پاک تبدیلیاں پید اہوں ، ہم دین کو دنیا پر مقدم کرنے والے بنیں اور اس کا صحیح فہم اور ادراک ہمیں حاصل ہو۔ہم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اپنے دلوں میں پیدا کرنے والے ہوں۔اپنی روحانی ، اخلاقی اور علمی حالت بہتر کرنے والے ہوں اور اس کے لیے ہر ممکن کوشش کریں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ جلسے کے مقاصد کو بیان فرماتے ہوئے فرماتے ہیں اور اپنی بیعت میں آنے والوں کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ " تمام مخلصین داخلین سلسلہ بیعت اس عاجز پر ظاہر ہو کہ بیعت کرنے سے غرض یہ ہے کہ تادنیا کی محبت ٹھنڈی ہو۔اور اپنے مولیٰ کریم اور رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت دل پر غالب آجائے اور ایسی حالت انقطاع پید اہو جائے جس سے سفر آخرت مکر وہ معلوم نہ ہو۔" آسمانی فیصلہ ، روحانی خزائن جلد 4 صفحہ 351) پس بڑا واضح ارشاد ہے کہ میری بیعت میں آکر صرف زبانی دعوے تک نہ رہو بلکہ مخلصین میں شامل ہو جاؤ اور اخلاص اور وفا میں اس وقت ترقی ہو سکتی ہے جب اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت سب محبتوں سے بڑھ کر ہو۔اس لیے شرائط بیعت میں بھی آپ نے یہ شرط رکھی ہے کہ بیعت کرنے والا قال اللہ اور قال الرسول کو ہر معاملے میں دستور العمل قرار دے گا۔(ماخوذ از ازالہ اوہام حصہ دوم، روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 564) اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی ہر بات کو اپنے ہر معاملے میں تب ہی رہ نما بنایا جاسکتا ہے جب حقیقی محبت