خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 505
خطبات مسرور جلد 17 505 39 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 27 ستمبر 2019 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 27 / ستمبر 2019ء بمطابق 27 / تبوک 1398 ہجری شمسی بمقام جلسہ گاہ جماعت احمدیہ ہالینڈ ، نن سپیت (ہالینڈ) تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ ہالینڈ کا جلسہ سالانہ شروع ہو رہا ہے اور کئی سال بعد مجھے بھی اللہ تعالیٰ توفیق دے رہا ہے کہ آپ کے جلسے میں شامل ہوں۔گذشتہ کئی سال سے امیر صاحب جلسے پر آنے کا کہتے رہے مگر دوسری جماعتی مصروفیات کی وجہ سے باوجود خواہش کے یہ ممکن نہیں ہو سکا۔بہر حال اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ وہ مجھے آج اس جلسے میں شامل ہونے کی توفیق عطا فرما رہا ہے۔گذشتہ چند سالوں میں ہالینڈ میں جماعت کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، 1/3 تو اضافہ یقینا ہوا ہے۔بہت سے لوگ پاکستان سے ہجرت کر کے آئے ہیں ، کچھ نئے لوگ بھی جماعت میں شامل ہوئے ہیں۔بہر حال دنیا کی دوسری جماعتوں کی طرح ہالینڈ کی جماعت بھی اپنی جو ان کی تعداد تھی یا جو ان کے وسائل تھے اس لحاظ سے ترقی کر رہی ہے۔لٹریچر وغیرہ کی اشاعت بھی اب یہاں بہتر طریقے پر ہو رہی ہے۔نئے سینٹر اور ایک مسجد بھی جماعت کو ملی ہے۔ابھی میں نے دیکھی تو نہیں لیکن لوگوں سے المیرے کی مسجد کی خوب صورتی کی تعریف سنی ہے کہ آپ لوگوں نے بڑی اچھی مسجد بنائی ہے۔ان شاء اللہ تعالیٰ اگلے ہفتے اس کا افتتاح یعنی رسمی افتتاح بھی ہو گا۔ویسے تو وہاں نمازیں پڑھی جارہی ہوں گی اور پڑھی جارہی ہیں۔لیکن ہمیشہ یادر کھیں یہ تعداد میں اضافہ یا مشن اور سینٹر ز بنانا یا مسجد تعمیر کرنا اسی وقت فائدہ دیتا ہے جب ان کے مقاصد کو پورا کیا جائے۔پس یہاں رہنے والے ہر احمدی کو اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے اور اس بات کی ضرورت ہے کہ دیکھے اور تلاش کرے کہ وہ کیا مقاصد ہیں جو ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت میں آکر پورے کرنے ہیں۔جیسا کہ میں نے کہا کہ ان پچھلے چند سالوں میں بہت سے احمد کی ہجرت کر کے یہاں آئے ہیں اور یہاں جماعت کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔کیوں ہجرت کر کے آئے ہیں ؟ اس لیے کہ خاص طور پر پاکستان میں احمدیوں کو مذہبی آزادی نہیں ہے، احمدیوں کو مذہب کے نام پر تنگ کیا جاتا ہے ، ان کے حقوق سلب کیے جاتے ہیں اس لیے کہ انہوں نے زمانے کے امام کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی اور حکم کے مطابق مانا ہے۔ہمیں اللہ تعالیٰ کا نام لینے اور اس کی عبادت کرنے سے اس لیے روکا جاتا ہے کہ ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق کی بیعت میں کیوں آئے ہیں۔مسجدیں بنانا تو ایک طرف ہمیں اپنے لوگوں کی تربیت کے لیے جلسے اور اجتماع کرنے سے