خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 504
خطبات مسرور جلد 17 504 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 ستمبر 2019 کیا کرتے تھے۔پھر اس کے بعد ان کا تقرر نائیجیریا میں ہو گیا۔وہاں بھی انہوں نے جماعت کا پر لیس جاری کیا اور بڑی کامیابی سے چلایا بلکہ اس دوران میں ایک حادثہ بھی پیش آیا کہ کام کرتے کرتے پریس کی مشین میں آکے ان کی ایک انگلی کٹ گئی، اور بڑا علاج کرایا لیکن ٹھیک نہیں ہوتی تھی۔حضرت خلیفۃ المسیح الرابع کو جب پتالگا تو آپ نے ان کو کہا کہ لندن آکر علاج کرواؤ اور پھر اللہ کے فضل سے یہ ٹھیک بھی ہو گئی۔پھر رقیم پر لیں جب یہاں قائم ہونا تھا۔یہ یہاں تھے۔حضرت خلیفة المسیح الرابع نے فرمایا کہ تم یہاں پر پریس لگانے کی کوشش کرو اور جو کمیٹی تشکیل دی اس میں مصطفیٰ ثابت صاحب اور مبارک ساقی صاحب بھی شامل تھے۔اس میں ان کو بھی شامل کیا اور پھر یہاں اس وقت سے پریس بھی اللہ کے فضل سے چل رہا ہے۔سترہ سال ان کو افریقہ کے ممالک میں سیر الیون اور نائیجیریا میں خدمت کی توفیق ملی۔پھر 1988ء میں حضرت خلیفة المسیح الرابع نے دورہ افریقہ کے دوران ان کو فرمایا کہ کیمرون جاؤ، وہاں جماعت شروع کرو۔چنانچہ بڑی مشکلوں سے ان کو ویزہ ملا۔یہ وہاں گئے اور ایک ماہ تک کیمرون میں رہے اور وہاں تبلیغ کے مواقع بھی پیدا ہو گئے۔ریڈیو پر آپ کے انٹرویو شائع ہوئے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے دورے کے دوران ایک خاندان نے بیعت کی توفیق بھی پائی۔1988ء میں یہ واپس پاکستان آگئے۔پھر لاہور میں بطور مربی خدمت کی توفیق پائی۔یہاں بھی مختلف مواقع پر جلسے پر آیا کرتے تھے۔پرائیویٹ سیکرٹری کے دفتر میں خدمات بجالاتے رہے مختلف۔1991ء سے نصرت آرٹ پر یس کے مینیجر کے طور پر خدمت کی توفیق پائی۔پھر کچھ عرصے سے سٹروک (stroke) کی وجہ سے بیمار تھے تو انہوں نے ریٹائر منٹ بھی لے لی۔اللہ تعالیٰ ان سے رحم اور مغفرت کا سلوک فرمائے درجات بلند کرے اور ان کی ایک بیٹی ہے اس کو بھی صبر اور حوصلہ عطا فرمائے، اہلیہ کو بھی صبر اور حوصلہ عطا فرمائے۔الفضل انٹر نیشنل مورخہ 11 اکتوبر 2019، جلد 26 شماره 61 صفحہ 05ت10)