خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 503 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 503

خطبات مسرور جلد 17 503 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 ستمبر 2019 16 ستمبر کو 75 سال کی عمر میں ہارٹ اٹیک کی وجہ سے وفات پاگئے تھے۔اإِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رجِعُونَ۔ان کا میں جنازہ غائب ابھی پڑھاؤں گا۔آپ حضرت مولوی قدرت اللہ سنوری صاحب صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نواسے تھے۔صفی الرحمن خورشید صاحب کے والد بھی واقف زندگی تھے اور حضرت مصلح موعود کی ہدایت پر سندھ کی زمینوں پر انہوں نے خدمات انجام دیں۔صفی الرحمن صاحب کی ابتدائی تعلیم ربوہ میں تھی۔پھر ان کی والدہ نے ایک خواب دیکھی جس کی بنا پر 1961ء میں یہ جامعہ احمد یہ ربوہ میں داخل ہوئے اور 1970ء میں شاہد کی ڈگری حاصل کی۔ان کی دو بیویاں تھیں۔پہلی بیوی سے ان کی ایک بیٹی اور دوسری بیوی سے کوئی اولاد نہیں ہے۔ان کی بیٹی بھی یہیں رہتی ہیں، روشن آرا، جمیل احمد صاحب کی اہلیہ ہیں۔جامعہ پاس کرنے کے بعد صفی الرحمن صاحب کچھ عرصہ ربوہ میں مرکزی دفاتر میں رہے۔اس کے بعد چکوال میں مربی رہے اور وہاں ایک سال تک صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام حضرت حکیم عبد اللہ صاحب کے ساتھ مل کر انہوں نے خدمت کی توفیق پائی۔1972ء میں ان کو سیر الیون بھیج دیا گیا اور کہتے ہیں کہ افریقہ روانگی کے وقت حضرت خلیفۃ المسیح الثالث نے یہ ہدایت فرمائی کہ افریقین سے محبت کرتے رہنا اور کہتے ہیں کہ اس نصیحت کو میں نے پلے باندھا۔پھر ایک دفعہ انہوں نے خدا تعالیٰ کی نصرت کا اپنا ایک واقعہ بیان کیا۔کہتے ہیں کہ سیر الیون میں دور دراز کے علاقے میں لمبا پیدل اور کشتی پر سفر کر کے شام کے وقت ایک آبادی میں پہنچے اور ایک بوڑھے افریقن احمدی بھی ان کے ساتھ تھے۔وہاں پہنچے تو گاؤں کا چیف وہاں موجود نہیں تھا لہذا ان کے جو اصول ہیں، روایات ہیں اس کے مطابق چیف امام کے پاس گئے۔چیف امام نے بات سننے سے انکار کر دیا اور گاؤں سے نکال دیا۔رات ہو رہی تھی، کوئی ٹھکانہ نہیں تھا۔واپس چل پڑے۔تھوڑی دور گاؤں سے جنگل کا علاقہ شروع ہو جاتا تھا اور وہاں ایسا علاقہ تھا جہاں سمندر کی یا دریا کی، پانی کی لہریں بھی آجایا کرتی تھیں۔کہتے ہیں ہم چل رہے تھے، بڑے پریشان تھے تو ایسے وقت میں ایک طرف سے ایک آدمی نے آواز دی جو اونچی جگہ پر بیٹھا ہوا تھا اور پھر اس نے ہمیں اپنے جھونپڑے میں پناہ دے دی۔کچھ دیر کے بعد پھر کچھ آوازیں آنا شروع ہو ئیں ، لوگ بلا رہے تھے ہمیں اور قریب آئے تو پتا لگا کہ کہہ رہے تھے کہ چیف امام نے تمہیں واپس بلایا ہے کیونکہ جب سے اس نے تمہیں نکالا ہے تمہارے جاتے ہی اس کے سر میں شدید درد شروع ہو گئی ہے۔اس پر اس نے کہا ہے کہ بلا کے لاؤ شاید ان کی وجہ سے میرے سر میں درد ہے۔بہر حال یہ واپس گئے ، اس نے سارے گاؤں والوں کو جمع کیا اور کہتے ہیں وہاں رات کو ہم نے تبلیغ کی۔دس بارہ لوگوں نے احمدیت قبول کرلی اور کہتے ہیں چیف امام کی سر درد کے لیے ہم نے سورہ فاتحہ کا دم کیا تو وہ بھی اللہ کے فضل سے ٹھیک ہو گیا اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے خود ان کی رہائش کا بھی انتظام کر دیا اور نہ صرف یہ بلکہ بیعتیں بھی عطا فرما دیں۔وہاں ان کو سیر الیون میں پرنٹنگ پریس جاری کرنے کا شروع کرنے کا بھی موقع ملا۔حضرت خلیفة المسیح الثالث نے وہاں خاص مشینیں بھجوائیں جو وہاں لگائی گئیں۔اس زمانے میں پہلے وہاں پر یس کامیاب نہیں ہو رہے تھے۔بہر حال انہوں نے اس کو بڑی کامیابی سے چلایا اور حضرت خلیفۃ المسیح الثالث اس پر میس کی وجہ سے ان کی کافی تعریف