خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 35 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 35

خطبات مسرور جلد 17 35 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 جنوری 2019 ہم دو ہی نہیں ہیں تیسر ا خدا تعالیٰ بھی ہمارے پاس ہے۔چونکہ اب وقت آ پہنچا تھا کہ خدا تعالیٰ اسلام کو بڑھائے اور ترقی دے اور مکہ والوں کے لئے مہلت کا وقت ختم ہو چکا تھا۔خدا تعالیٰ نے مکہ والوں کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا اور انہوں نے کھوجی سے استہزاء شروع کر دیا اور کہا کہ کیا انہوں نے اس کھلی جگہ پر پناہ لینی تھی ؟ یہ کوئی پناہ کی جگہ نہیں ہے اور پھر اس جگہ کثرت سے سانپ بچھو رہتے ہیں۔یہاں کوئی عقل مند پناہ لے سکتا ہے اور بغیر اس کے کہ غار میں جھانک کر دیکھتے کھوجی سے ہنسی کرتے ہوئے وہ واپس لوٹ گئے۔۔دو دن اسی غار میں انتظار کرنے کے بعد پہلے سے کلے کی ہوئی تجویز کے مطابق رات کے وقت غار کے پاس سواریاں پہنچائی گئیں اور دو تیز رفتار اونٹنیوں پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھی روانہ ہوئے۔ایک اونٹنی پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور رستہ دکھانے والا آدمی سوار ہوا اور دوسری اونٹنی پر حضرت ابو بکر اور ان کا ملازم عامر بن فهيرة سوار ہوئے۔مدینہ کی طرف روانہ ہونے سے پہلے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا منہ مکہ کی طرف کیا۔اُس مقدس شہر پر جس میں آپ پید اہوئے، جس میں آپ مبعوث ہوئے اور جس میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کے زمانہ سے آپ کے آباؤ اجداد رہتے چلے آئے تھے آپ نے آخری نظر ڈالی اور حسرت کے ساتھ شہر کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا۔اے مکہ کی بستی اتو مجھے سب جگہوں سے زیادہ عزیز ہے مگر تیرے لوگ مجھے یہاں رہنے نہیں دیتے۔اس وقت حضرت ابو بکڑ نے بھی نہایت افسوس کے ساتھ کہا۔ان لوگوں نے اپنے نبی کو نکالا ہے اب یہ ضرور ہلاک ہوں گے۔جب مکہ والے آپ کی تلاش میں ناکام رہے تو انہوں نے اعلان کر دیا کہ جو کوئی محمد (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) یا ابو بکر کو زندہ یا مردہ واپس لے آئے گا اس کو سو (100) اونٹنی انعام دی جائے گی اور اس اعلان کی خبر مکہ کے ارد گرد کے قبائل کو بھجوا دی گئی۔چنانچہ سراقہ بن مالک ایک بدوی رئیس اس انعام کے لالچ میں آپ کے پیچھے روانہ ہوا۔تلاش کرتے کرتے اس نے مدینہ کی سڑک پر آپ کو جالیا۔جب اس نے دو اونٹنیوں اور ان کے سواروں کو دیکھا اور سمجھ لیا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھی ہیں تو اس نے اپنا گھوڑا ان کے پیچھے دوڑا دیا مگر راستہ میں گھوڑے نے زور سے ٹھو کر کھائی اور سُراقہ گر گیا۔سُراقہ بعد میں مسلمان ہو گیا تھا وہ اپنا واقعہ خود اس طرح بیان کرتا ہے۔" (دیباچہ تفسیر القرآن، انوار العلوم جلد 20 صفحہ 222 تا224) اور پھر وہ ساری تفصیل جو سراقہ کے حوالے سے پہلے بیان ہو چکی ہے وہ آپ نے تحریر فرمائی ہے۔پھر حضرت مصلح موعود لکھتے ہیں کہ : جب عامر بن فهيرة نے حضور کے ارشاد پر امن کا پروانہ لکھ دیا اور سراقہ کو امن کا پروانہ دیا تو اس وقت جب سراقہ لوٹنے لگا تو معا اللہ تعالیٰ نے سُراقہ کے آئندہ حالات آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر غیب سے ظاہر فرمادئے۔اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر غیب کے ذریعہ ظاہر فرمایا کہ آئندہ سراقہ کے ساتھ کیا حالات ہونے ہیں اور ان کے مطابق آپ نے اسے فرمایا۔سراقہ ! اس وقت تیرا کیا حال ہو گا جب تیرے ہاتھوں میں کسری کے کنگن ہوں گے۔سُراقہ نے حیران ہو کر پوچھا، کسری بن ہرمز شہنشاہ ایر ان کے ؟ آپ نے فرمایا ہاں !