خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 501
خطبات مسرور جلد 17 501 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 20 ستمبر 2019 رکھ۔یہ جو میرے دشمن ہیں ان کو گنتی کرلے تاکہ ان سے بدلہ لے سکے اور ایک دوسری روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں که وَاقْتُلْهُمْ بَدَا وَلَا تُبْقِ مِنْهُمْ أَحَدًا اور انہیں چن چن کر قتل کر اور ان میں سے کسی ایک کو بھی باقی نہ چھوڑ۔(بخاری کتاب المغازی باب هل يستاسر الرجل؟۔حدیث 3045) (فتح الباری شرح صحیح البخاری للامام ابن حجر عسقلانی جزء 7 صفحہ 488 قدیمی کتب خانہ مقابل آرام باغ کراچی) بہر حال انہوں نے نفل پڑھے اور آخر حارث کے بیٹے عقبہ نے حضرت حبیب بن عدی کو وہاں جا کے پھر حبیب کو قتل کر دیا، شہید کر دیا اور ایک اور روایت بخاری میں ہے اس کے مطابق حضرت خُبیب کو ابو سَروَعَہ نے قتل کیا تھا اور یہ حبیب ہی تھے جنہوں نے ہر ایسے مسلمان کے لیے دور کعت پڑھنے کی سنت قائم کی جو اس طرح باندھ کر مارا جائے۔اللہ نے عاصم بن ثابت کی دعا جس دن وہ شہید ہوئے وہ قبول فرمائی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو بتایا جو پہلے ذکر ہو چکا ہے عاصم بن ثابت نے دعا کی تھی کہ اللہ تعالیٰ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر کر دے جو اس قافلے کے لیڈر تھے جن میں حضرت حبیب بھی شامل تھے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو بتایا کہ جو ان لوگوں کے ساتھ واقعہ ہوا ہے اور جو انہیں تکلیف پہنچی تھی اور جب کفار قریش کو بعض لوگوں نے بتایا کہ عاصم قتل کیے گئے ہیں تو انہوں نے عاصم کی طرف کچھ آدمیوں کو بھیجا کہ ان کی لاش میں سے ایسا حصہ لائیں کہ جس سے وہ پہچانے جائیں۔عاصم نے بدر کے دن ان کے بڑے بڑے لوگوں میں سے ایک شخص کو قتل کیا تھا تو عاصم کی لاش پر بھڑوں کا ایک جھنڈ بھیجا گیا۔اللہ تعالیٰ نے ایسا انتظام کیا جو سائبان کی طرح اس کے اوپر چھایا رہا اور ان کی لاش کو کفار کے بھیجے ہوئے آدمی کچھ نقصان نہ پہنچا سکے اور ان سے بچا لیا، وہ کوئی ٹکڑہ نہ کاٹ سکے۔(صحيح البخارى كتاب المغازی باب غزوه الرجيع و رعل و ذكوان و بئر معونه حدیث 4086-4087) حضرت حبیب کو جب شہید کیا جانے لگا تھا تو اس وقت انہوں نے یہ بھی دعامانگی کہ اے اللہ !میرے پاس کوئی ذریعہ نہیں کہ تیرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تک سلام پہنچا سکوں پس تو خود میری طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام پہنچا دے۔جب حضرت خبیب قتل کیے جانے کے لیے تختہ پر چڑھے تو پھر دعا کی۔کہتے ہیں کہ ایک مشرک نے جب یہ دعاسنی کہ اللهمَّ أَحْصِهِمْ عَدَدًا وَاقْتُلُهُمْ بَدَدًا کہ یعنی اے اللہ ! ان کی گنتی کو شمار کر رکھ اور ان کو چن چن کر قتل کر تو وہ خوف سے زمین پر لیٹ گیا۔کہتے ہیں کہ ابھی ایک سال نہیں گزرا تھا کہ سوائے اس شخص کے جو زمین پر لیٹ گیا تھا حضرت حبیب کے قتل میں شریک تمام لوگ زندہ نہ رہے، سب ختم ہو گئے۔حضرت معاویہ بن ابو سفیان بیان کرتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ساتھ اس موقعے پر موجود تھا۔جب میرے والد نے حضرت خبیب کی دعا سنی تو وہ مجھے زمین پر گرانے لگے۔اور بھی کچھ لوگ ہوں گے بہر حال پہلی روایت ہے ، ایک دوسری روایت یہ بھی ہے۔عروہ بیان کرتے ہیں مشرکین میں سے جو اس موقعے پر موجود تھے ان میں ابو اھاب، اخنس بن شریق، عبیدہ بن حکیم اور امیہ بن عقبہ شامل تھے۔وہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ جبرائیل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم