خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 500 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 500

خطبات مسرور جلد 17 500 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 ستمبر 2019 ان کے ساتھ جائیں مگر وہ نہ مانے۔آخر انہوں نے ان کو مار ڈالا اور حبیب اور ابن رشتہ کو پکڑ کر لے گئے اور جا کر سکتے میں ان کو بیچ دیا۔یہ جنگ بدر کے بعد کا واقعہ ہے اور حبیب کو بنو حارث بن عامر بن نوفل بن عبد مناف نے خرید لیا اور حبیب ہی تھے جنہوں نے حارث بن عامر کو بدر کے دن قتل کیا تھا۔حبیب ان کے پاس قید رہے۔ابن شہاب کہتے تھے کہ عبید اللہ بن عیاض نے مجھے بتایا کہ حارث کی بیٹی نے ان سے ذکر کیا کہ جب انہوں نے اتفاق کر لیا کہ انہیں مار ڈالیں گے۔جنہوں نے ان کو خرید کر قیدی بنایا تھا وہ اس بات پر متفق ہو گئے کہ اب ان کو قتل کر دینا ہے، شہید کر دینا ہے تو حبیب نے اسی قید کے دوران میں ایک دن ان سے استر امانگا کہ اسے استعمال کریں۔یہ بڑا مشہور واقعہ بیان کیا جاتا ہے۔چنانچہ اس نے استرا دے دیا۔حارث کی بیٹی کہتی ہے کہ اس وقت میری بے خبری کی حالت میں میرا ایک بچہ نبیب کے پاس آیا اور انہوں نے اس کو لے لیا۔اس نے کہا کہ میں نے حبیب کو دیکھا کہ وہ بچے کو اپنی ران پر بٹھائے ہوئے ہے اور استرا ان کے ہاتھ میں ہے۔میں یہ دیکھ کر اتنا گھبرائی کہ حبیب نے گھبراہٹ کو میرے چہرے سے پہچان لیا اور بولے تم ڈرتی ہو کہ میں اسے مار ڈالوں گا۔میں تو ایسا نہیں ہوں کہ یہ کروں۔حارث کی بیٹی کہا کرتی تھی کہ بخدا میں نے کبھی ایسا قیدی نہیں دیکھا جو ٹیب سے بہتر ہو۔پھر کہنے لگی کہ اللہ کی قسم ! میں نے ایک دن ان کو دیکھا کہ خوشه انگور ان کے ہاتھ میں تھے ، انگوروں کا ایک گچھا ان کے ہاتھ میں تھا اور وہ اس سے انگور کھا رہے تھے اور وہ زنجیر میں جکڑے ہوئے تھے اور ان دنوں گنے میں کوئی پھل بھی نہ تھا۔کہتی تھیں کہ یہ اللہ کی طرف سے رزق تھا جو اس نے حبیب کو دیا۔جب ان لوگوں کو حرم سے باہر لے گئے کہ ایسی جگہ قتل کریں جو حرم نہیں ہے تو حبیب نے ان سے کہا مجھے اجازت دو کہ میں دور کعتیں نماز پڑھ لوں اور انہوں نے ان کو اجازت دے دی تو انہوں نے دور کعتیں پڑھیں اور کہنے لگے مجھے یہ گمان نہ ہو تا کہ تم یہ خیال کرو گے کہ میں اس وقت جس حالت میں نماز میں ہوں گھبراہٹ کا نتیجہ ہے، مجھے کوئی مرنے کی گھبراہٹ ہے تو میں ضرور یہ نماز لمبی پڑھتا۔پھر انہوں نے اپنے خدا سے دعا کرتے ہوئے یہ کہا کہ اے اللہ ! ان کو ایک ایک کر کے ہلاک کر۔جب ان کو شہید کرنے لگے اس وقت انہوں نے یہ بھی دعا کی کہ اے اللہ ! ان کو ایک ایک کر کے ہلاک کر۔پھر حضرت حبیب نے یہ شعر بھی پڑھے کہ وَلَسْتُ أَبَالِي حِيْنَ أَقْتَلُ مُسْلِمًا عَلَى أَي شِيِّ كَانَ لِلَّهِ مَصْرَعِي وَذَالِكَ فِي ذَاتِ الْإِنْهِ وَانْ يَّشَأْ يُبَارِكْ عَلَى أَوْصَالِ شِلْوِ مُمَزِّعِ کہ جبکہ میں مسلمان ہونے کی حالت میں مارا جارہا ہوں مجھے پروا نہیں کہ کس کروٹ اللہ کی خاطر گروں گا اور میرا یہ گرنا اللہ کی ذات کے لیے ہے اور اگر وہ چاہے تو ٹکڑے کیے ہوئے جسم کے جوڑوں کو برکت دے سکتا ہے۔علامہ حجر عسقلانی جو بخاری کے شارح ہیں وہ غزوہ رجیع کے تحت ایک حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں کہ حضرت خبیب نے شہادت کے وقت یہ دعا مانگی کہ اللهُمَّ أَحْصِهِمْ عَدَدًا۔کہ اے اللہ ! ان دشمنوں کی گنتی کو شمار کر