خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 499
خطبات مسرور جلد 17 499 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 ستمبر 2019 جو حارث کی اولاد کا حلیف تھا۔اس سے حارث کے بیٹے عقبہ نے حضرت حبیٹ کو خرید اتھا تا کہ اپنے باپ کے قتل کا بدلہ لے سکے۔یہ بھی کہا گیا ہے کہ عقبہ بن حارث نے حضرت خبیب کو بنو نجار سے خرید اتھا۔یہ بھی کہا گیا ہے کہ ابو اهاب، عکرمہ بن ابو جہل، اخنس بن شریف، عبیدہ بن حکیم، امیہ بن ابو عتبہ حضرمی کے بیٹوں نے اور صفوان بن امیہ نے مل کر حضرت حبیب کو خریدا تھا۔یہ سب وہ افراد تھے جن کے آباء غزوہ بدر میں قتل کیے گئے تھے۔ان سب نے حضرت حبیب کو خرید کر عقبہ بن حارث کو دے دیا تھا جس نے انہیں اپنے گھر میں قید کر لیا تھا۔(الاستيعاب في معرفة الاصحاب جزء 2 صفحه 23 تا 25 ، خُبيب بن عدى دار الكتب العلمية بيروت 2002ء) (سیرت خاتم النبیین صفحه 513) بخاری میں واقعہ کر جمیع کی بابت کچھ تفصیلات یوں بیان ہوئی ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس آدمیوں کا ایک دستہ حالات معلوم کرنے کے لیے بھیجا اور عاصم بن ثابت انصاری کو جو عاصم بن عمر بن خطاب کے نانا تھے اس کا امیر مقرر کیا۔یہ لوگ چلے گئے۔جب هَدَأَه مقام پر پہنچے جو عسفان اور ملے کے درمیان ہے تو ان کے متعلق کسی نے بنو لحیان کو خبر کر دی جو ھذیل قبیلے کا ایک حصہ ہے۔یہ خبر سن کر بنو لحیان کے تقریباً دو سو آدمی جو سب کے سب تیر انداز تھے نکل کھڑے ہوئے اور ان کے قدموں کے نشانوں پر ان کے پیچھے پیچھے گئے۔یہاں تک کہ انہوں نے وہ جگہ دیکھ لی، وہاں تک پہنچ گئے جہاں انہوں نے کھجوریں کھائی تھیں۔جہاں یہ دس آدمی رکے تھے اور کھجوریں کھائی تھیں جو مدینے سے بطور زاد راہ کے لے کے آئے تھے، سفر کے کھانے پینے کا سامان لے کے آئے تھے ، تو وہاں بیٹھ کر انہوں نے کھجوریں کھائی تھیں۔وہاں کھجوروں کی گٹھلیاں پھینکیں تو انہیں دیکھ کر انہوں نے کہا کہ یہ یثرب کی کھجوریں ہیں ، مدینے کی کھجوریں ہیں اور پھر وہ قدموں کے نشان پر ان کے پیچھے پیچھے چلے گئے۔جب عاصم اور ان کے ساتھیوں نے ان کو آتے دیکھا تو انہوں نے ایک ٹیلے پر پناہ لے لی۔ان لوگوں نے ان کو گھیر لیا اور ان سے کہنے لگے کہ نیچے اتر آؤ اور تم اپنے آپ کو ہمارے سپر د کر دو اور ہماری طرف سے تمہارے لیے یہ عہد ہے کہ ہم تم میں سے کسی کو بھی قتل نہیں کریں گے۔عاصم بن ثابت جو اس دستے کے امیر تھے بولے کہ یقیناً اگر میں اپنے آپ کو سپر د کروں گا تو آج کا فر کی امان پر ٹیلے سے اترنا ہو گا اور میں کافر کی امان پر ٹیلے سے نہیں اتروں گا۔پھر انہوں نے دعا کی کہ اے اللہ ! اپنے نبی کو ہمارے متعلق خبر کر دے۔ان لوگوں نے اس پر تیر چلائے اور عاصم کو سات آدمیوں سمیت مار ڈالا۔یہ دیکھ کر تین آدمی عہد و پیمان پر اعتماد کرتے ہوئے، ان کی باتوں پر اعتماد کرتے ہوئے ان کے پاس نیچے آگئے۔ان میں حبیب انصاری اور ابن دشتہ اور ایک اور شخص تھے۔جب یہ نیچے آگئے تو کافروں نے ان کو قابو کر لیا۔انہوں نے اپنی کمانوں کی تندیاں کھولیں اور ان کی مشکیں کسیں، اس سے ان کو باندھ دیا۔تیسرا شخص کہنے لگا کہ یہ پہلا دعا ہے۔بخدا میں تمہارے ساتھ نہیں جاؤں گا۔میرے لیے ان لوگوں میں راحت بخش نمونہ ہے جو شہید ہوئے۔میں تو یہیں ہوں۔شہید کرنا ہے تو کرو۔انہوں نے اسے کھینچا اور کشمکش کی کہ وہ کسی طرح