خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 498
خطبات مسرور جلد 17 498 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 ستمبر 2019 اللہ نے میرے ہاتھ سے عزت دی اور مجھے اس کے ہاتھوں رسوا نہیں کیا۔بڑا ہو شیاری سے بیان دیا۔سفیان کہتے تھے کہ میں نہیں جانتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حصہ دیا یا نہیں۔(صحيح البخارى كتاب الجهاد والسير بَابُ الكَافِرِ يَقْتُلُ المُسْلِمَ۔حدیث 2827 ) ( معجم البلدان جلد 2 صفحه (223) حضرت جابر سے مروی ہے کہ حضرت نعمان بن قوقل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور انہوں نے پوچھا یار سول اللہ ! اگر میں فرض نمازیں ادا کروں اور رمضان کے روزے رکھوں اور حرام چیزوں کو حرام قرار دوں اور حلال چیزوں کو حلال قرار دوں اور اس پر کچھ بھی زیادہ نہ کروں تو کیا میں جنت میں داخل ہو جاؤں گا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ہاں۔اس پر انہوں نے کہا کہ خدا کی قسم !میں اس پر کچھ بھی زیادہ نہ کروں گا۔(مسند احمد بن حنبل جلد 23 صفحه 78 مسند جابر بن عبد الله حدیث ،14747، مؤسسة الرسالة 2008ء) حضرت جابر سے روایت ہے کہ نعمان بن قوقل مسجد میں داخل ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے روز خطبہ ارشاد فرمارہے تھے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا اے نعمان ! دور کعتیں ادا کرو۔یہ جمعہ کی جو سنتیں ہیں ان کا بھی مسئلہ اس میں بیان کیا گیا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے ، آپ نے انہیں کہا کہ دور کعتیں ادا کرو اور ان میں اختصار سے کام لو۔مختصر طور پر جمعہ کی سنتیں پہلے پڑھ لو۔خطبہ شروع ہو گیا ہے دور کعت ادا کرو اور مختصر پڑھو۔پھر آپ نے فرمایا کہ اگر تم میں سے کوئی آئے اور امام خطبہ دے رہا ہو تو اسے چاہیے کہ وہ دور کعت نماز پڑھے اور وہ دونوں رک رکعتیں ہلکی ہوں۔(معرفة الصحابة لابي نعيم جلد 04 صفحه 317، النعمان بن قوقل الانصاري، دار الكتب العلمية بيروت 2002ء) پھر جن صحابی کا اس وقت ذکر ہے ان کا نام ہے حضرت خبیب بن عدی انصاری۔حضرت حبیب بن عدی انصار کے قبیلہ اوس کے خاندان بنو جخجبى بن عوف سے تعلق رکھتے تھے۔(اسد الغابه في معرفة الصحابه جزء 1 صفحه 681 ، 'خُبَيْب بن عدی، دار الفكر 2003ء) حضرت عمیر بن ابو وقاص نے جب ملنے سے مدینے ہجرت کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اور حضرت خبیب بن عدی کے درمیان مواخات قائم فرمائی۔(عيون الاثر جلد اول صفحه 232 ذكر المؤاخات دار القلم بيروت، 1993ء) حضرت خبیب بن عدی غزوہ بدر میں شریک ہوئے اور انہوں نے اس جنگ میں حارث بن عامر کو قتل کیا تھا۔غزوہ بدر میں مجاہدین کے اسباب کی نگرانی ان کے سپرد تھی۔(سیر الصحابہ جلد 3 حصہ چہارم صفحہ 309 ادارہ اسلامیات لاہور ) حضرت خبیب بن عدی چار ہجری میں واقعہ کر جیع میں شامل تھے۔حضرت خبیب بن عدی اور حضرت زید بن دشتہ کو مشرکین نے قید کر لیا اور انہیں مکہ ساتھ لے گئے اور کتے پہنچ کر ان دونوں صحابہ کو فروخت کر دیا گیا۔حارث بن عامر کے بیٹوں نے حضرت حبیب کو خریدا تا کہ وہ اپنے باپ حارث کے قتل کا بدلہ لے سکیں جسے بدر کے روز حبیب نے قتل کیا تھا۔ابن اسحاق کے مطابق مجیر بن ابوراهاب تمیمی نے حضرت حبیب کو خریدا تھا